Browsing: تازہ ترین

تقریب کے مہمان خصوصی معروف قانون دان اور شاعر وسیم ممتاز تھے ۔ وہاڑی سے آئے ہوئے معروف شاعر مجید سالک اور اسسٹنٹ ڈایئریکٹر پاسٹرل انسٹی ٹیوٹ ملتان فادر افتخار مون ( او پی ) مہمانان اعزاز میں شامل تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم ممتاز نے کہا کہ جاوید یاد کے ادبی سفر کے ہم عینی شاہد ہیں وہ اس دھرتی سے محبت کرتے ہیں ، ڈاکٹر مقبول گیلانی نے کہا کہ یاد نے اپنی یادوں کو اپنی شاعری کا محور بنایا ، قمر رضا شہزاد نے کہا کہ جاوید یاد نثر کے ساتھ ساتھ شعر کےمیدان میں بھی اپنا سفر جاری رکھے ہوئےہیں ۔
رضی الدین رضی نے کہا کہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے اور آج کی تقریب میں ہمیں یہ خوبصورتی نظر آرہی ہے ۔ ڈائیریکٹر ملتان آرٹس کونسل سلیم قیصر نے کہا میری ان کےساتھ دیرینہ رفاقت ہے محبت کا پھیلاؤ ان کی شخصیت کا بھی حصہ ہے ۔ سیموئل کامران نے کہا جاوید یاد نے غزل اور نظم کے ساتھ ساتھ خوبصورت گیت بھی لکھے ، شفیق اختر حر نے کہا ان کی شاعری میں سلاست اور روانی ہے ۔ کشور مراد کشور ، پرویز ڈیوڈ , یوسف سلیم قادری اور بابر منہاس نے بھی خطاب کیا ۔

انہوں نے جنوبی پنجاب میں خواتین کی پہلی ادبی تنظیم حریم فن کی 1972 میں بنیاد رکھی جس نے ملتان میں خواتین قلم کاروں کو متعارف ہونے کا موقع فراہم کیا۔ ان کی تصنیفات میں ’’ سلسلے درد کے ‘‘ ، ’’ دل کی وہی تنہائی ‘‘ ( ناول ) اور ’’ صرف خواب میرے ہیں‘‘ ( شعری مجموعہ) شامل ہیں ۔

فریضہ حج کی ادائیگی نے ان کی شاعری کا رُخ غزل سے نعت رسول مقبولؐ کی طرف موڑ دیا۔ انہوں نے ﷲ تعالیٰ اور حضور اکرمؐ کے ننانوے ناموں پر قطعات لکھ کر ’’مرسل و مرسل‘‘ کے نام سے شائع کرائے۔ سیرۃ النبیؐ ’’منظوم‘‘ لکھنا شاید ان کی زندگی کا سب سے بڑا پراجیکٹ تھا جسے انہوں نے انتہائی عقیدت و مہارت سے مکمل کیا۔ سرکاری نوکری کے سلسلہ میں لاہور، ملتان، پشاور اور کراچی میں مقیم رہے لیکن ان کی مستقل رہائش کراچی میں ہی رہی۔ انہوں نے غزل، نظم، قطعہ، رباعی، غرضیکہ ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی ۔ وہ ہر مشاعرے، نشست، ادبی محفل میں تازہ کلام پڑھتے۔