پیارے بیٹے رضی!
وعلیکم السلام بیٹا
کل تمہارا خط پڑھا۔ ہر لفظ کے ساتھ یوں لگا جیسے تم میرے سامنے بیٹھے باتیں کر رہے ہو۔ تمہاری ہر بات دل تک پہنچی۔ مگر ایک بات کہوں؟ اتنا اداس نہ ہوا کرو۔ ماں کو اپنے بچوں کے آنسو کبھی اچھے نہیں لگتے۔
بیٹا! تم کہتے ہو کہ نو ماہ ہو گئے ہیں۔ میرے لیے تو وقت کا حساب اب تم لوگوں کی دعاؤں سے ہوتا ہے۔ جب بھی تم مجھے یاد کرتے ہو، میرے لیے دعا کرتے ہو یا قرآن پڑھ کر ایصالِ ثواب کرتے ہو، وہ سب مجھ تک اللہ کے حکم سے پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے مجھے یاد ضرور کیا کرو، مگر دکھ میں ڈوب کر نہیں، دعا کے ساتھ۔
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ تم آج بھی میرے کمرے میں بیٹھتے ہو۔ وہ گھڑی، وہ شوکیس، وہ الماری، وہ فریم… سب کا ذکر پڑھ کر یوں لگا جیسے ابھی بھی میں اس کمرے میں موجود ہوں ۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، میری اصل نشانی وہ چیزیں نہیں، میری اصل نشانی تمہارا اخلاق، تمہاری محبت اور تمہاری دعا ہے۔ اگر یہ باقی ہیں تو میں بھی تمہارے ساتھ ہوں۔
تم نے لکھا کہ کبھی کبھی میری آواز سنائی دیتی ہے اور خواب میں مجھے ہنستا ہوا دیکھتے ہو۔ بیٹا، اگر اللہ تمہیں مجھے مسکراتا ہوا دکھاتا ہے تو اس پر شکر ادا کیا کرو۔ میں نہیں چاہتی کہ تم مجھے رو کر یاد کرو۔ میری خواہش ہمیشہ یہی تھی کہ میرا بیٹا ہمت والا رہے، لوگوں کے کام آئے اور اپنے رب سے کبھی امید نہ توڑے۔
گاؤں کی باتیں پڑھ کر مجھے بھی وہ دن یاد آ گئے جب تم سب بچے میرے ساتھ چھٹیاں گزارنے جاتے تھے۔ وقت واقعی کتنی تیزی سے گزر گیا۔ اب تم خود بڑے ہو گئے ہو، مگر میرے لیے تو آج بھی وہی شرارتی سے رضی ہو جو ہر بات آ کر اپنی ماں کو سنایا کرتا تھا۔
شاکر حسین شاکر اور قیصر عباس صابر کو اعزاز ملنے کی خبر سن کر خوشی ہوئی۔ اللہ انہیں مزید عزت دے۔ ڈاکٹر انعام الحق مسعود صاحب کا بھی شکریہ ادا کرنا کہ انہوں نے بیماری کے دنوں میں میرا بہت خیال رکھا۔ اور قمر رضا شہزاد کے لیے میری طرف سے بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جلد کامل شفا عطا فرمائے۔ شاکر اور قمر میرے بیٹے ہی تو ہیں ۔۔ شاکر کی امی سے یہاں ملاقات ہوئی تھی میں نے انہیں مبارکباد دی بہت خوش تھیں اس کی کامیابیوں پر ۔۔
بیٹا، ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ زندگی رکا نہیں کرتی۔ میرے جانے کے بعد اگر تم ہر روز صرف غم ہی کو سینے سے لگائے رکھو گے تو مجھے بھی سکون نہیں ملے گا۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ تم اپنے بچوں، اپنے گھر والوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ محبت سے رہو، ہنستے رہو اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔
جب کبھی دل بہت بھر آئے تو میرے لیے سورۂ یٰسین پڑھ لیا کرو، دو چار لوگوں کو کھانا کھلا دیا کرو یا کسی ضرورت مند کی مدد کر دیا کرو۔ مجھے یقین ہے، اس سے تمہارے دل کو بھی سکون ملے گا اور میری روح بھی خوش ہوگی۔
اور ہاں، رات کو جب سونے لگو تو مجھے آواز دینے سے پہلے اپنے رب سے بات کر لیا کرو۔ وہ اپنے بندوں کی ہر بات سنتا ہے، ہر آنسو دیکھتا ہے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی حفاظت میں رکھے، صحت دے، عزت دے، ایمان پر قائم رکھے اور تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ میری دعائیں آج بھی تمہارے ساتھ ہیں، جیسے تمہارے بچپن میں تھیں۔
ہمیشہ تمہاری،
امی جان
تیس اگست دوہزار چھبیس
رضی الدین رضی کے خط کا امی جان کی طرف سے جواب : شہزاد عمران خان کا کالم
ایڈیٹر3 Views

