Browsing: تجزیے

حکومت تو بتا چکی ہے کہ وہ 26 ویں ترمیم اور پیکا رترمیم جیسے ہتھکنڈوں سے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی قدرت رکھتی ہے اور وہ اس طریقے کو ترک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ تحریک انصاف کو البتہ بتانا ہے کہ مذاکرات کو مسترد کرکے اب آگے کیا ہوگا۔ اس سے پہلے احتجاج کرنے اور اسلام آباد پر دھاوا بولنے کا شوق پورا کیا جاچکا ہے۔ تحریک انصاف ہٹ دھرمی اور ضد سے جو راستے ہموار کرانا چاہتی ہے، ان کے کھلنے کا امکان نہیں ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ سیاسی پارٹی کے طور پر اب تحریک انصاف کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ حکومت سے بات چیت جاری رکھنا موجودہ مشکل حالات میں ایک آپشن تھا ۔ اسے مسترد کرکے تحریک انصاف نے صرف اپنی مشکلوں میں اضافہ کیا ہے۔

عرب لیڈروں و ایران نے اگر کوئی سخت مؤقف اختیا رنہ کیا اور پوری دنیا فلسطینیوں کی آزادی اور اپنی سرزمین پر رہنے کے حق کے لیے یک آواز نہ ہوسکی تو ٹرمپ جیسا لیڈر عرب لیڈروں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاکر انہیں اپنے منصوبے پر عمل درآمد پر راضی کرسکتا ہے۔

بتایا جائے کہ پولیس اہلکار کو معافی مانگنے اور خاتون کو تھپڑ مارنے کی اجازت دینے کے فیصلے میں کون سے پولیس افسر ملوث تھے اور ان کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے۔ دوسرے یہ بتایا جائے کہ اس معاملہ کا اصل ملزم یعنی بغیر لائسنس کے کار چلانے والے شخص کو کیا سزا دی گئی ہے یا اس ہنگامہ میں اسے ہیرو کا درجہ دے کر اس کی قانون شکنی معاف کردی گئی ہے؟

آزادی رائے بنیادی انسانی حق ہے۔ اسے جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کو اگر جدید دور میں سرخرو ہونا ہے تو اسے اپنے لوگوں کی زبان بندی کی بجائے ان کی رائے کا احترام کرنے کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر قانون سازی کے ذریعے گھٹن اور بے چینی میں اضافہ ہوگا اور ترقی کے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے۔

سپریم کورٹ کے جج اصولی لڑائی کی بجائے اپنے اختیار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس لڑائی میں سیاسی ترجیحات اور ذاتی مفادات کی آلائش محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہ طریقہ جاری رہا تو ملک میں انصاف کے سب سے بڑے مرکز کا مستقبل تابناک نہیں ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ناروے )