تحریک انصاف کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو نظام کے ساتھ چل کر کوئی راستہ نکالنا چاہتی ہے اور نہ جمہوریت کو مضبوط کرنے اور ملکی سیاست سے عسکری قیادت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ وہ کسی ضدی بچے کی طرح فوج کا وہ کاندھا مانگ رہی ہے جس پر سواری کرکے عمران خان 2018 میں وزیر اعظم بنے تھے۔
Browsing: تجزیے
جب ہمیں عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ مسلم امہ اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔خارجہ اور داخلہ امور کو متوازن سمت دینا ہو گی ،مذہبی انتہا پسندی اور عقیدے کی غلط تشریح سے گریز کر کے امن کی راہیں اختیار کرنا ہوں گی ۔یہی ریاست پاکستان کی ترقی کا پہلا زینہ ثابت ہو گا
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور اردن کے شاہ کی ملاقات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی صدر غزہ کو خالی کرانے اور وہاں قابض ہونے کے دعوے پر قائم ہے لیکن عرب ممالک ابھی ملاقاتیں کرنے اور مل جل کر کسی منصوبے پر عمل کرنے ہی پر غور کررہے ہیں۔ اس ملاقات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کئی ہفتے پہلے درست طور سے دعویٰ کیا تھا کہ’ اردن اور مصر خواہ ان کے منصوبے کی مخالفت کرلیں لیکن وہ مان جائیں گے‘
اگر عمران خان نو مئی میں کامیاب ہو جاتے تو ہم ایک ایسے پاکستان میں ہوتے جہاں میڈیا مکمل طور پر بکا ہوا ہوتا، ججز کی تعیناتی عمران خان کی مرضی سے ہوتی، مخالفین پر جھوٹے کیسز بنتے، فوج کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا جاتا، اور کوئی آواز اختلاف کی ہمت نہ کر سکتی۔ یوتھیے مخالفین کی کردار کشی کرتے، جیسے وہ آج بھی مریم نواز کے مصافحے کو لے کر انہیں "رنڈی” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔یہ سب کچھ کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ پہلی بار، ایک ایسا شخص سامنے آیا جو نہ جھکا، نہ بکا، نہ ڈرا۔ ورنہ شاید آج کا پاکستان ایک یک طرفہ آمریت کی تصویر ہوتا ایک ایسا پاکستان جہاں صرف ایک ہی شخص "حق” ہوتا اور باقی سب "باطل”۔
کسی خطے کے لوگوں کو وہاں سے نکال کر اس جگہ کو رئیل اسٹیٹ بنادینے کی بات کرنا بجائے خود بدترین سفاکی اور گھٹیا انسانی رویہ ہے لیکن کسی اصول یا اخلاق کو نہ ماننے والے امریکی صدر سے کسی بھی بے اعتدالی اور لاقانونیت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے لیے جس منصوبہ کا اعلان کررہے ہیں، اس کے تحت غزہ سے 25 لاکھ فلسطینی باشندوں کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کیا جائے گا۔
اسلام آباد کے علاوہ تین صوبوں میں قانون کی دفعات اور انتظامی طاقت استعمال کرکے خیبر پختون خوا کے علاوہ کسی حکومت نے تحریک انصاف کو کسی قسم کا اجتما ع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے باوجود احتجاجی ریلیوں کی روک تھام کے لیے دفعہ 144 کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی گئی۔ متعدد شہروں میں اس عذر کی بنا پر تحریک انصاف کے متعدد لیڈروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ کوئٹہ کے سوا کہیں سے قانون کی ’خلاف ورزی‘ کی اطلاع نہیں ملی۔
اتفاق ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی طرف سے سیاسی مقدمات میں کثرت سے ’ریمارکس‘ دینے اور باقاعدہ فریق…
وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ دو روز کے دوران متعدد بیانات کے ذریعے خبروں میں رہنے اور اپنی حکومت کے فعال اور مؤثر ہونے کا…
فوج کے ساتھ ایک پیج پر آنے کا زمانہ اب بیت چکا ہے۔ اب انہیں جو بھی حاصل کرنا ہے ، وہ فوج کو راضی کرنےسے نہیں بلکہ عوام کی حمایت سے ملے گا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ مقبولیت کے دعوؤں اور سب سے بڑی پارٹی ہونے کے اعلانات کے باوجود تحریک انصاف نئے انتخابات کرانے کی بات نہیں کرتی۔ اس بوالعجبی کی بھی کچھ وجوہات تو ہوں گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔۔ ناروے )
پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بلوچستان میں غیرملکی طاقتوں کے آلہ کار عناصر کو ہر قیمت پر ختم کرنے اور امن بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ گزشتہ روز دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں 18 فوجیوں کی شہادت کے بعد کوئٹہ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ نام نہاد دوست نما دشمن کچھ بھی کرلیں ، پاک فوج انہیں قوم کے تعاون سے شکست دے گی‘۔
