لوگ اپنی مرادیں لیے نہ جانے کہاں کہاں سے آئے تھے۔ کتنی مرادیں اپنے ساتھ آنسو بطور گواہ لے کر آئی تھیں کہ مراد پوری ہونا لازمی تھی۔ کسی کے پاس ہدیے کے لیے پیسے تھے تو کسی کے پاس کوئی کھانے کی چیز۔ وہاں بھی لوگ ایک دوسرے کو حسد کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔
اچانک سب کی نظروں کا مرکز ایک شخص بنا، جس کے ہاتھ خالی تھے۔ وہ سب کی نظروں میں غرور دیکھ کر اندر داخل ہوا۔ وہ کچھ دینا چاہتا تھا۔ اس نے سب کو نظر انداز کیا اور سجدے میں گر گیا۔
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

