جرابیں لے لو صرف سو روپے کی ہیں۔ یہ آواز روز یونیورسٹی سے واپسی پر اس کا پیچھا کرتی تھی اور جب تک وہ بٹوہ کھول کر تنہائی میں بوجھل پچاس کا نوٹ نہ دکھاتا ۔۔۔ وہ آواز اس کا پیچھا نہ چھوڑتی تھی۔ دن گزر گئے ، لیکن اس آواز نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا ، آخر تنگ آ کر اس نے اپنے الفاط کو ہی بدل ڈالا ۔ بھائی جرابیں لے لو، صرف بچاس روپے کی ہیں، اس آواز پر پھر سے بٹوہ کھولا گیا تو آواز لگانے والا خوش ہوا، لیکن وہ خوشی وقتی ثابت ہونے میں دیر نہ لگی کیونکہ بٹوے میں مرجھایا ہوا اکیلا بیس روپے کا نوٹ نظر آ رہا تھا۔
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

