اسلام آباد:دختر مشترق، سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا یوم پیدائش 21 جون کو منایا جائے گا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے گھر 21 جون 1953ء کو ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام بےنظیر رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ اس صنف نازک کا حوصلہ اور ہمت صنف آہن سے بھی کہیں بڑھ کر ہو گا۔
جس نے کم عمری میں اپنے والد کو تختہ دار پر چڑھتے دیکھا اور صرف 29 برس کی عمر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ طویل جلاوطنی کے بعد بینظیر بھتو 1986ء میں وطن واپس پہنچیں اور 1987ء میں آصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ بے نظیر بھٹو نے محض 35 سال کی عمر میں عالم اسلام کی پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
محترمہ بےنظیر نے 1998ء میں دوبارہ جلاوطنی اختیار کی اور 18 اکتوبر 2007ء کو وطن واپس پہنچی تو ان پر پہلا حملہ ہوا جس میں 200 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی جدوجہد اور قربانی کی ایک داستان ہے۔ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دہشتگرد حملہ میں وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
انہوں نے پاکستانی سیاست میں تلخیوں کو کم کرنے باہمی اتفاق کے فروغ کیلئے میثاق جمہوریت بھی کیا۔ دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ہونے والی محترمہ بے نظیر بھٹو نے کئی کتب بھی تحریر کیں۔ ان کی سالگرہ کے موقع پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پیپلز پارٹی کے کارکن خصوصی تقاریب کا انعقاد کریں گے اور ان کی سیاسی و قومی خدمات پر خراج تحسین پیش کریں گے۔
(بشکریہ:اے پی پی)
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

