Author: ایڈیٹر

اب دو ہی راستے ہیں: یا تو عوام اس سرکاری تعلیمی ڈھانچے کی تباہی کے خلاف کھڑے ہوں، یا پھر خاموشی اختیار کریں اور دیکھیں کہ کیسے چند سرمایہ دار اور سیاستدان ان کے بچوں کے مستقبل کو بیچ کھاتے ہیں۔ کیا تعلیم اب صرف وہی حاصل کرے گا جس کی جیب میں بھاری فیس ہو؟ کیا سرکاری یونیورسٹیاں یونہی برباد ہوتی رہیں گی؟ یا پھر عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ تعلیم کسی کی جاگیر نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے؟ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی، تو کل تعلیم صرف ان کے لیے ہوگی جن کے بینک اکاؤنٹس بھرے ہوئے ہوں گے، اور باقی سب بس خواب دیکھتے رہ جائیں گے ۔

تقریب کے مہمان خصوصی معروف قانون دان اور شاعر وسیم ممتاز تھے ۔ وہاڑی سے آئے ہوئے معروف شاعر مجید سالک اور اسسٹنٹ ڈایئریکٹر پاسٹرل انسٹی ٹیوٹ ملتان فادر افتخار مون ( او پی ) مہمانان اعزاز میں شامل تھے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم ممتاز نے کہا کہ جاوید یاد کے ادبی سفر کے ہم عینی شاہد ہیں وہ اس دھرتی سے محبت کرتے ہیں ، ڈاکٹر مقبول گیلانی نے کہا کہ یاد نے اپنی یادوں کو اپنی شاعری کا محور بنایا ، قمر رضا شہزاد نے کہا کہ جاوید یاد نثر کے ساتھ ساتھ شعر کےمیدان میں بھی اپنا سفر جاری رکھے ہوئےہیں ۔
رضی الدین رضی نے کہا کہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے اور آج کی تقریب میں ہمیں یہ خوبصورتی نظر آرہی ہے ۔ ڈائیریکٹر ملتان آرٹس کونسل سلیم قیصر نے کہا میری ان کےساتھ دیرینہ رفاقت ہے محبت کا پھیلاؤ ان کی شخصیت کا بھی حصہ ہے ۔ سیموئل کامران نے کہا جاوید یاد نے غزل اور نظم کے ساتھ ساتھ خوبصورت گیت بھی لکھے ، شفیق اختر حر نے کہا ان کی شاعری میں سلاست اور روانی ہے ۔ کشور مراد کشور ، پرویز ڈیوڈ , یوسف سلیم قادری اور بابر منہاس نے بھی خطاب کیا ۔