Author: ایڈیٹر

اگر عمران خان نو مئی میں کامیاب ہو جاتے تو ہم ایک ایسے پاکستان میں ہوتے جہاں میڈیا مکمل طور پر بکا ہوا ہوتا، ججز کی تعیناتی عمران خان کی مرضی سے ہوتی، مخالفین پر جھوٹے کیسز بنتے، فوج کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا جاتا، اور کوئی آواز اختلاف کی ہمت نہ کر سکتی۔ یوتھیے مخالفین کی کردار کشی کرتے، جیسے وہ آج بھی مریم نواز کے مصافحے کو لے کر انہیں "رنڈی” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔یہ سب کچھ کیوں نہیں ہوا؟ کیونکہ پہلی بار، ایک ایسا شخص سامنے آیا جو نہ جھکا، نہ بکا، نہ ڈرا۔ ورنہ شاید آج کا پاکستان ایک یک طرفہ آمریت کی تصویر ہوتا ایک ایسا پاکستان جہاں صرف ایک ہی شخص "حق” ہوتا اور باقی سب "باطل”۔

کسی خطے کے لوگوں کو وہاں سے نکال کر اس جگہ کو رئیل اسٹیٹ بنادینے کی بات کرنا بجائے خود بدترین سفاکی اور گھٹیا انسانی رویہ ہے لیکن کسی اصول یا اخلاق کو نہ ماننے والے امریکی صدر سے کسی بھی بے اعتدالی اور لاقانونیت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے لیے جس منصوبہ کا اعلان کررہے ہیں، اس کے تحت غزہ سے 25 لاکھ فلسطینی باشندوں کو ان کی آبائی سرزمین سے بے دخل کیا جائے گا۔