نام ور سرائیکی شاعر امان اللہ ارشد بدھ سات جنوری کو انتقال کر گئے۔ان کی عمر 54 برس تھی ۔امان اللہ ارشد سرائیکی دوہڑے کی پہچان سمجھے جاتے تھے ۔ امان اللہ ارشد کا تعلق رحیم یار خان سے تھا ۔ وہ 1971ء میں ظاہر پیر کی بستی ڈیرہ دوست محمد میں پیدا ہوئے ۔ 1981ء میں شعری سفر کا آ غاز کیا اور صوفی فیض محمد دلچسپ کی شاگردی اختیار کی ۔ان کی کتابوں میں ، خواب جگارے ، ارشد دے ݙوہڑے ، سِک دا ساوݨ، دھمال ، تیݙیاں یاداں ، آسرا فقیریں دا، تیݙیاں یاداں ہِن شامل ہیں ۔
ہفتہ, اکتوبر 17, 2026
تازہ خبریں:
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان
- پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
- سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ
- جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی
- ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی

