میاں صاحب نے بلاول سے ملاقات کے دوران میثاقِ جمہوریت میں توسیع کا عندیہ دیا ہے اور اب اس میں ‘سویلین بالادستی’ اور ‘ووٹ کو عزت دو’ جیسی ترامیم بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے
کوٹ لکھپت جیل کے ملاقات کے کمرے میں کم و بیش آٹھ افراد موجود تھے۔ شلوار قمیض میں ملبوس بیمار شخص پاکستان کا تین مرتبہ منتخب ہونے والا وزیرِ اعظم اور اُن کے سامنے دو بار منتخب ہونے والی مسلم اُمّہ کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور سابق صدر کا بیٹا اور دو بار منتخب وزیرِ اعظم کا نواسہ موجود تھا۔
نواز شریف غیر معمولی حالات میں غیر معمولی افراد سے مل رہے تھے۔ ماں کے ساتھ ایک جیل سے دوسری اور دوسری سے تیسری پھرنے والا یہ نوجوان ماضی کی پرچھائیاں ڈھونڈ رہا تھا۔
یہ وہی جیل ہے جہاں سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی مقید رہے۔ وقت بدل گیا اور حالات بھی لیکن ایک بار پھر ایک سابق وزیرِ اعظم اسی جیل میں سزا بھگت رہے ہیں۔
مکالمے کا آغاز ہوا تو بیمار اور تنہا نواز شریف نے ملاقاتیوں کے سامنے انہی نظریات کا اظہار کیا جو وہ جیل جانے سے پہلے کر رہے تھے۔
بلاول نے بھی ستر سالوں میں منتخب راہنماؤں کا مقدمہ لڑنا شروع کیا۔
یہ نوجوان ستر سالوں کی تاریخ بدلنے کا خواہش مند ہے لیکن میاں صاحب نے میثاقِ جمہوریت میں توسیع کا عندیہ دیتے ہوئے اس میں اضافی ترمیم کا مشورہ دے ڈالا۔
اب اس میں ’سویلین بالادستی‘ اور ’ووٹ کو عزت دو‘ جیسی ترامیم بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
آصفہ اور بختاور کو مشفقانہ پیار، زرداری صاحب کو سلام اور گلدستہ بھجوانے کا شکریہ ادا کرنے کا کہہ کر میاں صاحب آئندہ ملاقات کے خواہش مند اور جلد رہائی کے لئے دعا گو تھے۔۔۔ مگر یہ خواہش کب پوری ہو گی نواز شریف نہیں جانتے اور شاید بلاول بھی نہیں۔
اس ملاقات نے پنڈی اور اسلام آباد میں کافی ہلچل پیدا کی ہے۔
ایک طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے تو دوسری جانب معاشی بدحالی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سرحدوں پر کیفیت اور پڑوسی کا جنگی ہیجان صورتحال کو غیر یقینی بنا چکا ہے۔
ایسے میں وزیراعظم کو آئندہ چند ماہ میں عسکری قیادت سے متعلق اہم فیصلے بھی کرنے ہیں۔ پنڈی کی کامیابی یہی ہو گی کہ اندرونی بحران جنم نہ لیں اور قومی یکجہتی بھی برقرار رہے۔
سیاست کے طالب علم اس بات پر متفکر ہیں کہ ایک جانب سندھ کا صوبائی بیانیہ اور دوسری جانب پنجاب میں سیاسی حزبِ اختلاف کا خلا۔۔۔ جہاں اکثریت نواز شریف کے حامی ووٹرز کی ہے۔۔۔ میں مخالف بیانیہ پنپ سکتا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں پہلے ہی عوامی حمایت میں کوشاں واحد اپوزیشن پشتون تحفظ تحریک کی صورت موجود ہے۔ اور بلوچستان کے بارے میں اب میں کیا لکھوں۔۔۔ ایسے میں یک جماعتی نظام کی کوششیں اور خواہش خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
بلاول، نواز ملاقات حکومت ہی نہیں، ماڈل ٹاون کے لئے بھی پریشانی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
ایوانوں میں بیٹھے نواز لیگ کے رہنماؤں کو پنجاب کے محاذ پر کارکنوں کو آج کے بعد جواب دینا ہو گا کہ وہ اپنے اسیر اور بیمار رہنما کے لئے متحرک کیوں نہ ہوئے یا یہ کہ مصالحانہ خاموشی کی وجوہات کیا ہیں؟
دراصل اسلام آباد کے بڑے گھر والوں کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ طویل عرصے تک نواز شریف کا جیل میں رہنا یا ملک بدر ہو جانا خواہش تو ہو سکتا ہے لیکن اگلے ساڑھے چار سالوں میں کوئی سیاسی بھونچال نہ آئے ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔۔۔
اور نہ ہی اصل مقتدروں کا یہ شیوہ رہا ہے۔
اتوار, نومبر 1, 2026
تازہ خبریں:
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ

