اسلام آباد (محمد صالح ظافر کی رپورٹ ) حکمران پاکستان مسلم لیگ کے قائد و سابق وزیراعظم نوازشریف نے قومی اسمبلی کے رواں پورے اجلاس سے رخصت لے لی ہے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے پیر کو ان کی درخواست ایوان میں پیش کی تو اسے ارکان نے یک آواز منظور کرلیا، اس وقت حزب اختلاف کے ارکان بھی موجود تھے۔
نوازشریف قومی اسمبلی کے لاہور سے رکن ہیں وہ گزشتہ ماہ آئین کی 27ویں ترمیم کی حمایت میں ووٹ دینے کے لیے آئے تھے اور اس کے بعد کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ یاد رہے جھنگ سے قومی اسمبلی کے رکن شیخ وقاص اکرم جو تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ہیں، اسمبلی کی رکنیت سے محروم کیے جانے کی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں۔ ایوان ان کے خلاف چالیس روز تک لگاتار بلا رخصت لیے غیر حاضر رہنے کی پاداش میں رکنیت سے محروم کیے جانے کے لیے ڈسکہ سے مسلم لیگ نون کی رکن سیدہ نوشین افتخار کی تحریک منظور کرچکا ہے۔
تحریک پر عملدرآمد کے لیے اسے ایوان میں دوبارہ کسی بھی قوت پیش کیا جاسکتا ہے۔ پیر ہی کو پارلیمنٹ کے خلاف تحریک انصاف اور نام نہاد و تحریک تحفظ آئین کے رہنمائوں، بالخصوص محمود خان اچکزئی کی دھمکیوں کے خلاف حکمران اتحاد بھی شامل جماعتیں پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی متحد ہوگئی، ان دونوں جماعتوں کے ارکان نے آئین کی 26ویں ترمیم کا دفاع کیا۔ پیپلز پارٹی کے کراچی سے رکن آغا رفیع اللہ نے بتایا کہ تحریک انصاف کے ارکان ترمیم کی تائید کی یقین دہانی کے بعد رائے شماری کے موقع پر بدک گئے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )
ہفتہ, ستمبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا
- پاکستان اور بھارت دیواریں گرائیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- سانحہ پمز ، ننھے فرشتے اور اجل کا فرشتہ : رضی الدین رضی کا کالم
- منڈی بہاؤ الدین میں فائرنگ کے واقعے میں جماعت احمدیہ کا مقامی عہدیدار ہلاک
- عمران خان اور جماعت اسلامی کا رومانس محبت کی باتیں اور چند گلے شکوے : ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ

