دنیا میں معرکے تو بہت ہوتے ہیں۔ کہیں گالیوں کی گولہ باری، کہیں ہاتھوں کی بات چیت۔ مگر ہمارا معرکہ سب سے نرالا ہے۔ہم اسے "معرکۂ حق” کہتے ہیں متاثرین اسے "ناحق” پکارتے ہیں ۔ اس میں ناک نہیں زخمی ہوتی ہے، آنکھ نہیں سوجتی ہے۔ صرف جیب کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلتا ہے کیونکہ وہ کچھ ایسے شہید کی جاتی ہے کہ اس کی یاد میں بندہ اور اس کا بجٹ کئی دن تک سوگ مناتے رہتے ہیں۔اس جنگ کا فیصلہ کبھی کسی کی فتح یا شکست پر نہیں بلکہ ہمیشہ اس بحران پر ہوتا ہے کہ بل کون دے گا؟
ہمارا ایک پرانا اور تجربہ کار دوستوں پر مشتمل ‘گروہِ مفت خوراں’ ہے۔ ہم جب بھی کسی ہوٹل میں چائے پینے بیٹھتے ہیں۔ تو آخری گھونٹ ختم ہوتے ہی محفل میں ایسی پراسرار خاموشی چھا جاتی ہے جیسے کسی ڈراؤنی فلم میں بھوت کے نمودار ہونے۔۔۔ یا بم دھماکے سے ٹھیک چند لمحے پہلے ہوا کرتی ہے۔ سب کی نظریں میز پر رکھی خالی پیالیوں۔۔ اور ویٹر کے ہاتھ میں موجود بل پر جم جاتی ہیں۔ اس نازک ترین لمحے میں ہم سب کسی ایسی "معصوم ا سامی” کی تلاش میں ہوتے ہیں جو غلطی سے ہماری میز کے قریب سے گزر جائے اور ہم اسے باتوں میں الجھا کر سارا بل اسی کے کھاتے میں ڈال دیں۔
مفت خوری کے اس فن میں ہم سبھی طاق ہیں۔ لیکن جس طرح کپاس کی فصل کے لیے سنڈی آفت ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح ہماری واردات کے لیئے آفت کا دوسرا نام ‘حکیم سراج الحق’ عرف ‘ملا بک بک’ تھا۔جو اتفاق سے ہمارے گروہِ مفت خوراں کے سرگرم رکن بھی تھے۔ ملا بک بک دنیا کے ان نایاب دانشوروں میں سے تھے جن کی رائے سے خود عقلِ کل بھی پناہ مانگتی ، بلکہ پردہ کرتی تھی۔
وہ معلومات کا ایسا لاوا تھے جو بلا وجہ بھی ابلتا رہتا تھا۔ ہر بحث میں ٹانگ اڑانا ان پر اتنا ہی فرض تھا جتنا سرکاری ملازم پر چائے کا وقفہ۔چنانچہ جیسے ہی کوئی معصوم آسامی ہمارے جال میں پھنسنے لگتی۔ موصوف بیچ میں کود پڑتے اور باتوں کی ایسی گولہ باری کرتے کہ وہ شخص چائے کا بل تو کیا، اپنی چپلیں بھی وہیں چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوتا۔
اس روز بھی یہی ماجرا ہوا۔ راقم اپنے گروہ مفت خوراں کے ہمراہ ہوٹل کی ان بوسیدہ کرسیوں پر براجمان تھا جو کہ انتظامیہ نے خاص ہمارے لیئے ہی مختص کر رکھی تھیں ( بقول انتظامیہ نئی کرسیاں صرف معزز گاہکوں کے لیئے تھیں) ۔میرے سامنے والی کرسیوں پہ ملا ہد ہد اور بک بک جبکہ ساتھ ملا کھد بد صاحب تشریف فرما تھے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ملا ہدہد کا نام ان کی تیز ترین مخبری اور تجسس کی وجہ سے پڑا تھا۔ان کی نظر سے ہوٹل کی مکھی بھی بچ کر نہیں گزر سکتی تھی۔ جبکہ ملا کھدبد کو ہر بات کی تہہ تک پہنچنے اور خواہ مخواہ کی کھجلی کرنے کی بیماری تھی۔ ہم تینوں ایک مالدار ا سامی کو گھیر کر اس سے چائے کا بل دلوانے ہی لگے تھے کہ ملا بک بک نے حسبِ عادت اپنی زبان کا تالا کھول دیا اور یوں وہ شکار بل دیے بغیر ہی سرپٹ بھاگ نکلا۔
اسے یوں بھاگتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔اس سے پہلے کہ ہچکیاں لے لے کر روتا ، میں نے بڑے ہی غمگین لہجے میں کہا ۔۔بک بک صاحب ! ایک بات تو بتائیے۔ کیا روئے دنیا پر کوئی ایسی بھی ہستی موجود ہے جس کی بات میں آپ ٹانگ نہ اڑاتے ہوں؟ یا جس کے سامنے آپ کی زبان کو ایمرجنسی بریک لگ جاتی ہو؟ اس سے پہلے کہ ملا بک بک اپنے دفاع میں کوئی لمبی چوڑی تقریر فرماتے۔ ہدہد صاحب نین مٹکاتے ہوئے بولے ۔جی ہاں! روئے زمین پر ایک ایسی بابرکت لیکن ہیبت ناک ہستی بھی پائی جاتی ہے۔جہاں ٹانگ اڑانے سے بھائی صاحب کی جان جاتی ہے ۔ یہ سنتے ہی ملا کھدبد نے اپنے نام کی حق تلفی نہ کرتے ہوئے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔ وہ کون سی ناگہانی آفت ہے جس نے ابلتے ہوئے ملا پر ،کولر کا یخ بستہ پانی انڈیل رکھا ہے؟۔یہ سن کر ملا ہدہد نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے بڑی ہی رازداری کہا۔وہ ذاتِ شریف ان کی نصف بہترہیں۔۔ جو واقعی ان سے کہیں بہتر ہیں۔ گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بیگم ایسی مارشلائی نگاہ ڈالتی ہیں کہ حضرت صاحب کے اندر کے سارے انقلابات بغاوت کا اعلان کرنےسے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
یہ سن کر ہم نے ملا بک بک کی طرف دیکھا۔ انہوں نے مظلومانہ آہ بھرتے ہوئے گردن یوں تسلیمِ خم کی جیسے زمین پر سو کا نوٹ دیکھ لیا ہو۔ میں نے حیرت سے پوچھا، ملا جی! آپ کے ایٹمی حملوں سے تو پورا شہر پناہ مانگتا ہے۔مگر آپ بیگم سے پناہ مانگتے ہیں ؟ یہ بتائیں کہ آپ کے الفاظ بھابھی کے سامنے یکلخت ‘رضاکارانہ ریٹائرمنٹ’ کیوں لے لیتے ہیں؟
میری بات پر ملا جی نے ایک بار پھر کچھ اس قسم کی ایٹمی آہ بھری۔ جیسے بجلی کا بل دیکھ کر شہری بھرتے ہیں۔ اور پھر افسردہ لہجے میں کہنے لگے۔بھائیو! گھر میں جمہوریت نہیں بلکہ مارشل لا کی تحویل میں قائم ‘احتساب سیل’ ہے۔ میں جیسے ہی کوئی رائے دیتا ہوں۔ بیگم اسے سیکیورٹی رسک قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے۔پھر انہوں نے کمر پر ہاتھ رکھ کر ڈوبتی آواز میں کہا ۔لفظوں کا زخم تو مرہم سے بھر جاتا ہےمگر دوستو! گھر میں موجود بعض ‘خانگی آلاتِ حرب’ ایسے بھی ہیں کہ جن کا درد انسان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپاہج رکھتا ہے۔ دنیا کی ہر جنگ کا انجام معاہدۂ امن پر ہوتا ہے۔لیکن بیگم سے جنگ کا واحد نتیجہ غیر مشروط سرنڈر نکلتا ہے ۔ جس کا ایجنڈا ہمیشہ یک نکاتی ہوتا ہے۔ غلطی چاہے کائنات کے کسی بھی کونے میں ہو۔ معافی صرف خاوند کو ہی مانگنی ہوگی۔
ملا بک بک کا یہ دل سوز اعتراف سننا تھا کہ ہماری محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔پھر آپ نے اسی حالت غم میں جیب سے بٹوا یوں نکالا، جیسے کسی بے گناہ کو پھانسی گھاٹ لے جایا جا رہا ہو۔ اور بل ادا کرنے کے بعد اس کی لاش کو واپس جیب میں رکھ لیا ۔ ابھی آپ اس صدمے سے سنبھلے بھی نہیں تھےکہ اتنے میں ویٹر دوبارہ سے آتے ہوئے بولا۔حضور، یہ تو صرف چائے کا بل تھا، سموسوں کا الگ ہے۔ یہ سنتے ہی ملا بک بک کا چہرہ دھواں دھوں ہو گیا انہوں نے جیب میں جھانکا، پھر آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولے۔دوستو! آج کے معرکہ ناحق میں میری جیب نے بھی جامِ شہادت نوش کر لیا ہے۔ فاتحہ سموسوں پر پڑھ لینا۔ میں نے پہلی بار ملا کو اتنی دیر خاموش دیکھا۔ یہ خاموشی نہیں بلکہ مالیاتی سوگ تھا۔اسے محسوس کرتے ہوئے ہم سب نے اپنی اپنی جیبوں پر ہاتھ رکھا۔ایک دوسرے مشکوک نظروں سے دیکھا۔اور اگلی چائے کے لیئے نئی ا سامی کی تلاش کرنے لگے۔
معرکۂ ناحق ، اور بیگم ملا بک بک کی مارشل لائی نگاہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
ایڈیٹر5 Views

