ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک بس کسی ان دیکھی قوت کے سہارے چل رہا ہے ،یہاں کا انتظام سنبھالنے والے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان صرف پروٹوکول لینے یا اور جھوٹے دعوے کرنے پرمامور ہیں۔ ایک جمہوری انتظام میں حکمرانوں کا عوام کے ساتھ جو رابطہ و تعلق ہونا چاہئے، اس کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ حتی کہ پیٹرولیم مصنوعات سے تنگ آئی ہوئی قوم کو دلاسا دینے والا بھی دکھائی نہیں دیتا۔
آج وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے تئیں آسمان میں تھگلی لگاتے ہوئے کم وسیلہ طبقات کے لیے پیٹرول میں خصوصی رعایت دینے کا اعلان ضرور کیا لیکن یہ اعلان بھی کسی براہ راست ملاقات، اسمبلی میں بات چیت یا کسی پریس کانفرنس میں کرنے کی بجائے ایک سرکاری بیان میں کیا گیا ہے۔ اس اعلان میں جو سہولت دینے کا وعدہ کیا گیا، اس میں وہی پرانی خامیاں موجود ہیں جواس سے پہلے جاری کی جانے والی اسکیموں میں موجود تھیں یعنی سہولت تو کم وسیلہ لوگوں کو دی جاتی ہے لیکن اشرافیہ کے لوگ غریبوں کے کاندھے پر بندوق رکھ کر اپنا مفاد حاصل کرلیتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اگرچہ موٹر سائیکلوں، رکشہ، چنگچی یا 800 سی سی سے چھوٹی گاڑیوں کے لیے سہولت یا پیٹرول الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی گئی کہ موجودہ ناکام اور کرپٹ نظام میں یہ سہولت واقعی ان بے وسیلہ لوگوں تک پہنچ پائے گی اور امرا اور اقتدار تک پہنچ رکھنے والے عناصر اس سے پہلے دی جانے سبسڈی کی طرح اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ اس لیے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ضرور کریں گے۔
اس کی بجائے وزیر اعظم اگر اسمبلی یا پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرنے کی زحمت کرتے تو سوال جواب کی صورت میں انہیں نوکر شاہی کے بنائے ہوئے فراخ دلانہ منصوبے کی خامیوں سے آگاہ کیا جاسکتا اور ان کے پاس ایک موقع ہوتا کہ وہ اس کی اصلاح کرسکتے تاکہ سہولت واقعی کمزور اورپسماندہ لوگوں تک پہنچ پاتی۔ لیکن حکومت عوام کا سامنا کرنے سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ حکمران بالواسطہ ’دیدار‘ دینے کا حوصلہ بھی نہیں کرتے۔ اور کاغذ پر لکھے ہوئے اعلان کے ذریعے اپنی ’عوام دوستی‘ ثابت کرکے فارغ ہوجاتے ہیں۔ اس سے پہلے متعدد معاملات پر شہباز شریف اور پنجاب میں ان کی بھتیجی مریم نواز یہی رویہ اختیار کر چکی ہیں۔ یا تو یہ لوگ میڈیا کا سامنا ہی نہیں کرتے ، اگر کہیں مڈ بھیڑ ہوجائے تو بچ نکلنے کی کوشش کی جاتی ہے یا پھر سوال کا جواب دینے کی بجائے پوچھا جاتا ہے ’آپ یہاں بھی پہنچ گئے‘۔ اس کی تازہ ترین مثال وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ لندن کے موقع پر دیکھنے میں آئی۔ وہ اپنی صاحبزادی کی گریجویشن کی تقریب میں شریک ہونے آئیں تو صحافیوں نے ان سے ملکی و پنجاب کے سیاسی حالات پر سوال کرنا چاہے لیکن وہ محافظوں کی اوٹ میں غائب ہوگئیں۔
عوام کے نام پر حکمرانی کرنے والے ان لوگوں کا عوام یا ان کا عوام سے رابطہ کرانے والے میڈیا سے گریز ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔ اگر ان لوگوں میں صحافیوں سے ملنے اور بعض ناگوار سوالوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو وہ کم از کم اسمبلیوں میں جاکر اپنے حامیوں کے حصار میں اپنا مافی الضمیر بیان کرسکتے ہیں۔ لیکن ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ پنجاب اسمبلیوں کے اجلاسوں میں شریک ہونے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ ایوان میں واضح اکثریت کی وجہ سے کوئی اپوزیشن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ البتہ اپوزیشن ارکان کی باتوں اور سوالوں سے انہیں زمینی حقائق سے آگاہی ہوسکتی ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) یہ یقین کرچکی ہے کہ یہ اس کا آخری موقع ہے، لہذا اقتدار اور سرکاری سہولتوں کازیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جائے اور اس کے بعد ملک سے باہر کسی گوشہ عافیت میں باقی ماندہ زندگی گزاری جائے۔ کسی حکمران سیاسی پارٹی کے لیڈروں کا یہ رویہ سیاسی نظام حکومت سے عوام کی دوری کا سبب بن رہا ہے لیکن کسی کو اس سے غرض نہیں ہے۔
’غریبوں‘ کو پیٹرول میں سہولت دینے کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم یہ جاننے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے پیٹرول مہنگا ہورہا ہے اور بے وسیلہ حکومت کے پاس اس کی قیمتوں پر کنٹرول کے وسائل نہیں ہیں تو اس قومی ایمرجنسی سے نمٹنے کے کیا طریقے ہوسکتے ہیں۔ اس کی بجائے نوکر شاہی کا تیار کردہ ناکارہ چورن ایک اعلان کے ذریعے بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم کو اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ اگر ملک میں انرجی کا بحران ہے اور پاکستان کو مہنگے داموں پیٹرول خریدنا پڑتا ہے تو وی آئی پیز کی نقل و حرکت پر استعمال ہونے والے قافلوں کا حجم ہی کچھ کم کیا جائے۔ یہ بتانے کی بجائے کہ موٹر سائیکلوں اور رکشاؤں کوکچھ پیٹرول کم قیمت پر ملے گا، سرکاری عہدیداروں، افسروں، ججوں اور دیگر ’اہم‘ افراد کو چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے یا سکیورٹی کے نام پر درجن درجن بڑی گاڑیوں کا قافلہ لے کر چلنے سے منع کیا جائے۔یہ عام فہم ہے کہ بڑی گاڑی میں پیٹرول زیادہ صرف ہوتا ہے ، اس لیے بھاری بھر کم کاروں اور فور ویلرز رکھنے یا چلانے پر ایمرجنسی پابندی لگا کر کم از کم اصراف سے بچنے کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ غریبوں کو معمولی الاؤنس دے کر اپنی عیاشی جاری رکھنے سے ہزار ہا بہتر ہوگا۔
اس کے برعکس پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اپنے حالیہ دورہ برطانیہ میں حکومت پنجاب کے لیے خریدے گئے گلف اسٹریم جی 500 میں سفر کیا۔ اس پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے پنجاب حکومت اور مریم نواز کے نمائیندوں نے یہ کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کی ہے کہ یہ مصارف مریم نواز اپنی جیب سے ادا کریں گی۔ نہ یہ بتایا جارہا ہے کہ اس سفر پر کیا خرچ آیا اور نہ ہی اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ پنجاب حکومت کی ملکیت والا طیارہ وزیر اعلیٰ نجی دورے پر کیوں کر استعمال کرسکتی ہیں؟ مصارف کی بات تو بعد میں آئے گی۔ اور مصارف سے بھی پہلے یہ سوال اہم ہے کہ جس ملک کو پیٹرول کی قلت اور قیمتوں میں ناگہانی اضافے کا سامنا ہو، اس کے لیڈروں کو کیا یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی عیاشی کے لیے ایک معمولی سفر پر کروڑوں روپے اڑا دیں۔ یہ تو بعد کی بات ہے کہ یہ مصارف کتنے تھے اور کس نے ادا کیے۔
حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی بجائے انہیں مسلسل بڑھایا جارہا ہے۔ یہ فاصلے بد اعتمادی اور ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سیاسی مکالمہ اور جواب دہی کا طریقہ سنسر اور دیگر پابندیوں کے ذریعے یوں ہی ختم کیا جاچکاہے۔ اس صورت حال کو ’نیو نارمل‘ کر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملکی استحکام اور قومی سلامتی کا سوال ہے۔ معاشرے میں تفاوت کی یہ صورت حال سماجی انتشار کو جنم دے رہی ہے۔ اس طوفان کی شدت کو سمجھنے اور اس کے حل کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے اگر تکبر اور یک طرفہ حاکمانہ طریقے سے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تو کوئی ایک چنگاری کسی غیر معمولی تباہی و بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔
ملک پر فوج کی بجائے سیاسی پارٹیوں کی حکومت ہے۔ انہیں ہائبرڈ نظام کی آڑ میں اپنی غلطیوں کو جائز قرار دینے کی کوششیں ترک کردینی چاہئیں۔ عوام کی محرومیوں کا جواب دینا ،ان سیاسی لیڈروں پر واجب ہے جو ان کے ووٹ لے کر اقتدار سنبھالنے کا ڈھونگ کرتے ہیں۔
( بشکریہ :کاروان ۔۔ ناروے )
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

