آج کل جب ’’جین زی‘‘ کے نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو کبھی کبھی میرے ذہن میں ’’ضائع شدہ نسل‘‘ کا تصور ابھرنے لگتا ہے۔ یہ تاثر یقیناً ہر نوجوان پر لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ ہماری نئی نسل میں بے شمار ذہین، باصلاحیت، محنتی اور ذمہ دار نوجوان بھی موجود ہیں، مگر سڑکوں پر جس بے ترتیبی، بے ہنگمی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ بعض نوجوان موٹر سائیکل سوار کرتے ہیں، وہ بہرحال تشویش ناک ہے۔
آپ کسی بھی مصروف شاہراہ کے کنارے چند منٹ بیٹھ کر اس تماشے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ کوئی نوجوان موٹر سائیکل کو ہوا میں اچھالتا ہوا ون ویلنگ کر رہا ہوگا، کوئی خطرناک رفتار سے گاڑیوں کے درمیان راستہ بناتا ہوا گزرے گا اور کہیں نوجوانوں کے جتھے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں انسانی جانوں کو کھیل سمجھتے دکھائی دیں گے۔ بعض اوقات کوئی نوجوان بظاہر بالکل سادگی سے موٹر سائیکل چلا رہا ہوتا ہے، پھر اچانک نہ جانے اس کے ذہن میں کیا خیال آتا ہے کہ وہ موٹر سائیکل کا اگلا پہیہ ہوا میں بلند کرکے موت کے ساتھ آنکھ مچولی شروع کر دیتا ہے۔
یہ صرف ایک نوجوان کی حماقت نہیں ہوتی؛ یہ سڑک پر موجود ہر شخص کی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ ایک غلط موڑ، ایک لمحے کی بے احتیاطی، ایک اچانک سامنے آنے والی گاڑی یا ایک معمولی سی لغزش کسی گھر کا چراغ بجھا سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جس حرکت کو یہ نوجوان چند لمحوں کی ’’بہادری‘‘ یا ’’تفریح‘‘ سمجھتے ہیں، وہ ان کے والدین کے لیے عمر بھر کا ماتم بن سکتی ہے۔
ہماری سڑکوں پر بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موت رقصاں ہے اور زندگی تماشائی۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ نوجوان ایسا کیوں کرتے ہیں؟ کیا انہیں اپنی جان عزیز نہیں؟ کیا انہیں اپنے والدین، بہن بھائیوں اور خاندان کا احساس نہیں؟ کیا انہیں اندازہ نہیں کہ سڑک صرف ان کی ملکیت نہیں بلکہ پیدل چلنے والوں، بزرگوں، بچوں، خواتین، مریضوں، مسافروں اور دوسرے ڈرائیوروں کا بھی مشترکہ حق ہے؟
اصل مسئلہ صرف ون ویلنگ نہیں، بلکہ قانون سے بے خوفی اور ذمہ داری کے احساس کا فقدان ہے۔ جب ایک نوجوان یہ سمجھنے لگے کہ قانون محض دوسروں کے لیے ہے، جب اسے یقین ہو کہ وہ چند لمحوں کی نمائش کے بعد آسانی سے بچ نکلے گا، تو پھر سڑک تفریح گاہ نہیں رہتی بلکہ خطرناک میدانِ جنگ بن جاتی ہے۔
اس صورتِ حال میں سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری والدین کی ہے۔ والدین جب اپنے کم عمر بچوں کے ہاتھ میں موٹر سائیکل کی چابی دیتے ہیں تو انہیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ بچہ موٹر سائیکل چلانا جانتا ہے یا نہیں؛ انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ ذمہ داری سے موٹر سائیکل چلانا جانتا ہے یا نہیں۔ ڈرائیونگ محض ایک ہنر نہیں، ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ بچے کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ سڑک پر رفتار کا جنون بہادری نہیں، حماقت ہے؛ ون ویلنگ کوئی کارنامہ نہیں، اپنی اور دوسروں کی زندگی سے کھیلنا ہے۔
دوسری بڑی ذمہ داری اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا اور ڈگری حاصل کرنا نہیں۔ ایک حقیقی استاد اپنے شاگرد کو اچھا طالب علم بنانے کے ساتھ ساتھ اچھا انسان اور ذمہ دار شہری بھی بناتا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ٹریفک قوانین، شہری ذمہ داری، انسانی جان کی حرمت اور قانون کی پاسداری کے حوالے سے باقاعدہ آگاہی ہونی چاہیے۔ اساتذہ محض سلیبس پڑھانے والی مشینیں نہ بنیں بلکہ نوجوان ذہنوں میں ذمہ داری، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور بھی پیدا کریں۔
تیسری اہم ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے۔ قانون موجود ہو مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو تو قانون محض کتاب کے صفحات پر لکھے چند الفاظ بن کر رہ جاتا ہے۔ ون ویلنگ، خطرناک ڈرائیونگ، ریسنگ اور ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ نوجوان ہو یا بااثر خاندان کا فرد، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
یہاں سیف سٹی منصوبوں اور جدید ٹیکنالوجی کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ سڑکوں پر نصب کیمروں کے ذریعے خطرناک ڈرائیونگ، ون ویلنگ اور موٹر سائیکل ریسنگ کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ ایسے عناصر کا تعاقب محض سڑک پر روکنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی شناخت، قانونی کارروائی اور والدین کو بروقت اطلاع کا مؤثر نظام قائم ہونا چاہیے۔
ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر نوجوان کو مجرم قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ نوجوانی توانائی، جوش اور مہم جوئی کا زمانہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس توانائی کو مثبت راستہ دیا جائے۔ کھیلوں کے میدان آباد کیے جائیں، موٹر اسپورٹس کے لیے محفوظ اور قانونی مقامات فراہم کیے جائیں، نوجوانوں کے لیے صحت مند تفریح کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیت اور جوش کو سڑکوں پر نہیں بلکہ محفوظ میدانوں میں آزما سکیں۔
سوشل میڈیا نے بھی اس مسئلے کو ایک نئی جہت دی ہے۔ چند سیکنڈ کی ایک خطرناک ویڈیو، سینکڑوں ’’لائکس‘‘ اور چند حوصلہ افزا تبصرے بعض نوجوانوں کو مزید خطرناک کرتب دکھانے پر اکساتے ہیں۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر چند لائکس کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگانا کوئی کامیابی نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان زندہ، صحت مند اور ذمہ دار رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کے لیے استعمال کرے۔
ہمیں اپنی سڑکوں کو جنگل کا قانون نہیں بننے دینا۔ ٹریفک سگنل توڑنا، غلط سمت میں گاڑی چلانا، تیز رفتاری، ون ویلنگ اور ریسنگ محض ٹریفک کی خلاف ورزیاں نہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرات ہیں۔ ایک ذمہ دار معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں آزادی کے ساتھ ذمہ داری، رفتار کے ساتھ احتیاط اور حق کے ساتھ فرض کا شعور بھی موجود ہو۔
آج ضرورت ہے کہ والدین تربیت کریں، اساتذہ شعور دیں، معاشرہ نگرانی کرے، میڈیا آگاہی پھیلائے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بلاامتیاز قانون پر عمل کرائیں۔
ورنہ یاد رہے نوجوان اولاد کی موت کا دکھ والدین کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ صرف اولاد نہیں مرتی والدین بھی ساتھ مر جاتے ہیں۔ اللہ نہ کرے۔
پیر, اگست 31, 2026
تازہ خبریں:
- پمز سانحہ پر سرکاری کارروائی اور تضادات کی کہانی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ون ویلنگ ۔۔موت کا رقص : پروفیسر صابر جروار کا کالم
- وزیرِ ڈیوڑھی کا دہن پھر بگڑا : وجاہت مسعود کا کالم
- امی جان کے نام رضی الدین رضی کا ایک اور خط
- رضی الدین رضی کے خط کا امی جان کی طرف سے جواب : شہزاد عمران خان کا کالم
- ڈاکٹر فخر عباس ، مریم نواز اور لاہور سے محبت : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- شُرلی، پٹاخہ اور بم ۔۔ بلوُ راکٹ کی کہانی : سہیل ورائچ کا کالم
- ناروے کے عوامی بادشاہ کا انتقال :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پمز سانحہ،عمران خان اور دل کو تسلّی دینے کی کوشش : نصرت جاوید کا کالم
- خواب بیچنے والے آن لائن فراڈیوں کی کہانی : کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم

