جنوری 1942 میں جالندھر میں پیدا ہونے والے ارشد سمیع خان جنگ ستمبر 1965میں 23 برس کے فلائٹ لیفٹیننٹ تھے۔ اس معرکے میں ارشد سمیع کو بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی پر ستارہ جرات عطا کیا گیا۔ یہ نوجوان افسر فیلڈ مارشل ایوب خان کو بھا گیا اور وہ انہیں اے ڈی سی بنا کر ایوان صدر میں لے آئے۔ ارشد سمیع نے ایوب خان ، یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں اے ڈی سی کے فرائض ادا کیے۔ 1972 میں صدر بھٹو نے ارشد سمیع کی خدمات وزارت خارجہ کے سپرد کر دیں۔ 2009 میں وفات پانے والے ارشد سمیع خان نے اپنی یادداشتیں ’تین صدر اور ایک اے ڈی سی‘ کے عنوان سے قلم بند کی ہیں۔ خود سوانحی یادداشتوں کا یہ مرقع ہماری تاریخ عبرت کے متعدد باب منکشف کرتا ہے۔ بانگی ملاحظہ ہو
*** ***
1966 کا موسم گرما تھا۔ ارشد سمیع کو ایوان صدر میں ذمہ داریاں سنبھالے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا ۔ ایک روز صبح سویرے انہیں ایوان صدر کے بیرونی گیٹ سے اطلاع ملی کہ پیر صاحب دیول شریف اپنے کوئی ایک سو مریدان باصفا کے ہمراہ ایوان صدر تشریف لائے ہیں۔ ارشد سمیع خان نے کاغذات دیکھے تو معلوم ہوا کہ پیر صاحب موصوف کی صدر ایوب سے دس بجے ملاقات طے ہوئی تھی لیکن وہ مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی اپنے لاﺅ لشکر سمیت وارد ہو چکے ہیں۔ ارشد سمیع نے اپنے سینئر لیفٹیننٹ خالد میر سے رہنمائی چاہی ۔ خالد میر نے ہنستے ہوئے ارشد سمیع کو بتایا کہ’ صدر ایوب کا عقیدت وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں البتہ سیاسی مفاد میں اس مخلوق سے روابط رکھتے ہیں۔
اس نوع کی مخلوق کو ایوان صدر میں ملاقات کا وقت ملتا ہے تو اپنے حلقہ ارادت کو مرعوب کرنے کے لیے قبل از وقت ہی تشریف لے آتے ہیں۔ اس سے یہ اشارہ مقصود ہوتا ہے کہ صاحب اقتدار نے ناشتے پر مدعو کیا ہے۔ وقت مقررہ پر ملاقات ختم ہونے پر اپنے ارادت مندوں کو بتایا جائے گا کہ صدر صاحب دوپہر کے کھانے کے لیے اصرار کر رہے تھے لیکن پیر صاحب نے اپنے مریدوں کو مزید انتظار کی زحمت دینا مناسب نہیں سمجھا۔ آپ صرف پیر اور ان کے ڈرائیور کو اندر آنے دیں تاہم خیال رکھیں کہ پیر صاحب وقت مقررہ سے پہلے ہی لپک کر فیلڈ مارشل کے دفتر میں نہ گھس جائیں‘۔ ارشد سمیع نے پیر صاحب کو احترام سے برآمدے میں بٹھا دیا۔ دراصل پیر صاحب دیول شریف نے وفاقی دارالحکومت راولپنڈی منتقل ہونے کی خبر پا کر پچاس کی دہائی کے اواخر میں پنڈی اور اسلام آباد کے درمیان فیض آباد کے مقام پر دیول نامی قدیم مندر کو دیول شریف کا نام دے کر اپنی خانقاہ میں بدل لیا تھا۔ انہیں اس نیک کام میں ایوب خان کی پوری تائید حاصل تھی۔
برسوں بعد جنرل ضیاالحق نے بھی مولوی عبداللہ غازی پر ایسی ہی شفقت کی تھی جن کی لال مسجد 2007 کے موسم گرما میں اقتدار کے کھیل کی خونیں تمثیل ٹھہری۔ آلومہار (سیالکوٹ) کے صاحبزادہ فیض الحسن بھی صدر ایوب کی پسندیدہ روحانی شخصیت تھے۔ 1968 کی ایوب مخالف تحریک میں فیض الحسن اور حکمران گھرانے میں تعلقات کے بارے میں بہت سی خبریں اڑی تھیں۔ 1965 کے صدارتی انتخاب میں صاحبزادہ فیض الحسن ایوب خان کی انتخابی مہم میں اسی جوش و جذبے سے شریک تھے جیسے 2002 کے صدارتی ریفرنڈم میں عمران خان اور طاہر القادری پرویز مشرف کے ہم قدم تھے۔ صاحبزادہ فیض الحسن کا موقف تھا کہ وہ صدر ایوب کی حمایت کر کے ان سے کچھ خصوصی اسلامی خدمات لینا چاہتے ہیں۔ ایوب خان تین سال تک صدارت کے بعد یحییٰ خان اور اس کے ٹولے کے ہاتھوں ایوان صدر سے کھدیڑے گئے لیکن فیض الحسن کی مزعومہ اسلامی خدمات کی کوئی خبر نہ آئی ۔
ارشد سمیع خان کے مطابق پیر دیول شریف کی آمد کے چند منٹ بعد صدر دروازے سے اطلاع آئی کہ پیر مانکی شریف بھی اپنے عقیدت مندوں سمیت تشریف لائے ہیں ۔ ان کی صدر صاحب سے گیارہ بجے ملاقات طے تھی۔ واضح رہے کہ قائداعظم سے ارتباط رکھنے والے پیر مانکی شریف امیر الحسنات جنوری 1960 میں بعمر 38 برس سڑک کے حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ پیر صاحب مانکی شریف بھی پیر دیول شریف کے پہلو میں بٹھائے گئے ۔ ارشد سمیع لکھتے ہیں کہ کوئی آدھ گھنٹے بعد برآمدے سے شوروغل کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ گھبرا کر باہر نکلے تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ دونوں مقدس ہستیوں نے ایک ہاتھ سے ایک دوسرے کی لہلہاتی ریش مبارک پکڑ رکھی تھی ۔ دوسرا ہاتھ گریبان پر تھا۔ دونوں ہاتھ مصروف تھے لیکن پیران طریقت کینگرو کی طرح اچھل اچھل کر ایک دوسرے کے حساس سنگم پر ٹھوکریں لگا رہے تھے اور مغلظات کے تبادلے میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ ارشد سمیع نے سکیورٹی سٹاف بلا کر دونو ں حضرات کو زبردستی الگ کیا۔ صدر کے ملٹری سیکرٹری میجر جنرل محمد رفیع کو اطلاع دی گئی۔ جنرل رفیع نے دونوں تقدس مآب ہستیوں کو خوب ڈانٹا اور دو مسلح گارڈ ان کے پاس کھڑے کر کے حکم دیا کہ اگر کسی نے اب گالی دی تو اسے گرفتار کر کے مقامی تھانے میں پہنچا دیا جائے۔
صدر ایوب فارغ ہوئے تو عملے نے انہیں اس واقعے سے آگاہ کیا ۔ صدر ایوب نے جھنجلا کر حکم دیا کہ پیر دیول شریف کو ان سے ملوایا جائے اگرچہ ان سے ملاقات کا وقت ابھی نہیں ہوا تھا۔ کوئی دس منٹ بعد صدر ایوب نے پیر مانکی شریف کو بھی اندر بلا لیا جنہیں دیکھتے ہی پیر دیول شریف نے غیظ آلود ہو کر اٹھنا چاہا ۔ صدر نے انہیں ڈانٹ کر بٹھا دیا اور دونوں حضرات کو حکم دیا کہ ایک دوسرے سے معافی مانگیں اور مصافحہ کریں۔ دونوں نے انکار کر دیا۔ صدر ایوب نے ارشد سمیع سے کہا کہ سکیورٹی سٹاف کو بلا کر ہر دو حضرات کو ہتھکڑی لگا ئی جائے اور تھانے لے جا کر ان کے خلاف ایوان صدر میں ہنگامہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا جائے۔ یہ سنتے ہی دونوں تقدس مآب ہستیوں نے ایک دوسرے سے معذرت کرتے ہوئے پرجوش معانقہ فرمایا اور خاموشی سے کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔ صدر نے دونوں کو اشارہ کیا کہ اے ڈی سی کے ہمراہ ملاقاتیوں کے کمرے میں واپس جائیں اور انٹرکام پر اے ڈی سی سے کہا کہ دونوں پیران طریقت کے مریدین کو منتشر کر دیا جائے مبادا ایوان صدر کے باہر کوئی ہنگامہ آرائی ہو۔ یوں ملاقات اختتام پذیر ہوئی ۔ اگرچہ دونوں تقدس مآب بزرگ ابھی صدر سے مزید مکالمت کی سعادت کے خواہش مند تھے۔ ارشد سمیع لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس واقعے کے بعد دونوں پیرانِ طریقت کو ایوان صدر میں نہیں دیکھا۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )
بدھ, اگست 26, 2026
تازہ خبریں:
- ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
- سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
- آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
- عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
- ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
- مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
- معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
- انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعدپاکستان میں گستاخی کے مقدمات میں دو تہائی کمی آئی : رائٹرز کی رپورٹ

