ایک زمانہ تھا جسے پنجابی میں ”ویلا“ کہتے ہیں، زندگی بہت آہستہ خرام تھی، 1968 اور 69ء کے زمانے میں تانگے میں سوار ہو کر ادبی تقریبات میں شرکت کے لئے جاتے تھے تو گھوڑے کے نعلین کی ٹخ ٹخ سے رنگِ تغزل میں سنگلاخ زمینوں کو سادگی سے برتنے کی تحریک ملتی تھی، ایک آنہ لائبریری سے اُردو نثر کے اسالیب تک رسائی ممکن تھی، لیکن زمانہ بدل رہا تھا، ہندوستان کی سماجی تباہی کے دور میں اُردو نثر کے کچھ جمال آفریں نثری نمونے کتب خانوں میں دستیاب تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علی گڑھ کے پروفیسر رشید احمد صدیقی کے مضامین نے حیاتِ انسانی کے بڑے تاریخی تجربوں کے تناظر میں طنز و مزاح کی معنویت تک رسائی مہیا کی، تناظر کی معنویت اُردو تنقید میں کثرت استعمال سے روبہ زوال رہی، لیکن یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔
لوہاری گیٹ سے پیدل ہی یا تانگے کی اگلی نشست پر زمان و مکاں سے بے نیاز یہ ناچیز خوگر آزادی کسی نئی کتاب کی جستجو میں نیا مکتبہ حسین آگاہی پہنچ جاتا۔ اس کے منتظم یا مدارا لمہام سادہ لفظوں میں کرتا دھرتا جناب عطاء اللہ ملک بہت سادہ طبع لیکن غیر معمولی سیاسی کارکن تھے۔ زندگی کی کڑی آزمائشوں سے گزرنے کے عمل میں سر کے بال غائب ہو چکے تھے، کتب کی ترتیب و تزئین سے فراغت کے بعد جب دوستوں کی بزم آباد ہوتی تو وہ کچھ زیادہ ہی فارغ البال نظر آتے۔ میں جس ”ایک زمانہ تھا“ کی بات کر رہا ہوں تو ان دنوں میں نے ملک صاحب کے روبرو پہنچ کر سوال کیا کہ کیا اُن کے پاس ”گنج ہائے گرانمایہ“ کی کوئی کاپی موجود ہے، ملک صاحب میرے سوال پر ششدر رہ گئے اور ارد گرد احباب اُن کے سر پر نظریں گاڑ کر تبسم زیرلب کی حدود سے آگے نکل گئے،
یہ تو خیر ایک واقعہ ہے، کچھ عرصہ بعد ایک اور کتب فروش سے دریافت کیا کہ کیا ”ہم تفسانِ رفتہ“ کا کہیں سراغ مل سکتا ہے، تو وہ ”سب کو جوارِ رحمت میں جگہ ملے“ کہہ کر دوسرے گاہک کی جانب متوجہ ہو گئے، یہ وہ زمانہ تھا کہ پروفیسر نظیر صدیقی اور جناب لطیف عارف صاحب کی کاوشوں سے ”نقش ہائے رنگ رنگ“ منظر عام پر نہیں آئی تھی اس کتاب کی اشاعت کے کچھ عرصہ بعد نظیر صدیقی بھی ہم تفسانِ رفتہ سے جا ملے۔ رشید احمد صدیقی صاحب کی تصنیف ”طنزیات، مضحکات“ نے علمی سطح پر اس اسلوب نگارش کی جانب اہم اشارے مہیا کئے۔ اُن کی تحریروں اور بے مثل خاکوں کے پرستاروں نے اُن کی شخصیت کے گرد ادب و احترام کے ناطے ایک فضا قائم کی لیکن جو اصل روپ تھا وہ حوادث حیات کا ایک دلفریب اشاریہ تھا۔ جس میں شخصی زندگی کے ناموافق حالات اور عالمی تاریخ کے بحران یا اتار چڑھاؤ نے ایک خود شناسی، آگہی یا دوسرے لفظوں میں بے بسی کی شناخت نے اُن کے اسلوب میں واقعات کی دلفریب تجسیم مہیا کر دی تھی۔
انہوں نے اوائل عمری میں معاشی مشکلات کے باعث جون پور میں کچہری، عدالت کے روز و شب کو قریب سے دیکھا اور پھر جب ایم اے فارسی کرنے کے بعد علی گڑھ میں لیکچرار تعینات ہوئے تو تاریخ اور سماجی زندگی کے مفتوح، گمنام گوشوں تک اپنے اسلوب کی حرکیت سے رسائی حاصل کی۔ اُن کے مضامین ”کار طفلاں تمام شواہد شد“، ”دیہاتی ڈاکٹر“ نو آبادیاتی دور میں تدریسی، طب کے شعبے کی ایسی تصویریں ہیں جو بے ساختہ مزاح کے ساتھ اپنے حالات کی بے بسی پر غور و فکر کی تحریک بھی مہیا کرتی ہیں، صدیقی صاحب کے مضامین میں فکر کی لہر درد مندی سے مربوط ہو کر خطبے کا روپ بھی دھار لیتی تھی، اور بعض طنزیہ جملوں سے اُن کے قدامت پرست نقطہ نظر کی ترجمانی ملتی تھی، لیکن درحقیقت وہ اسی انداز نظر سے بھی سوچنے کی تحریک مہیا کرتے تھے کیونکہ وہ اپنی ذات پر ہنسنے کا ہنر بھی جانتے تھے۔
بات اُس زمانے کی تھی جو گزر گیا کم و بیش اسی دور میں یا کچھ پہلے مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط بعنوان ”غُبارِ خاطر“ کے مطالعے کا موقع میسر ہوا۔ میں چونکہ چائے پیالے میں پیتا ہوں، لہٰذا صبح چار بجے کے جانفزا وقت کے دوران فنجان کے سامنے دھرے ہونے اور طبع نالہ سنج کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔ طبع نالہ سنج کا تو کچھ اعتبار نہیں ہوتا، کیا پتہ کہاں سے کدھر نکل جائے لیکن قلعہ احمد نگر کی اسیری نے ناموافق حالات میں شاعرانہ نثر کے ناطے مولانا کو ایک خوشگوار جہاں میں جینے کی تحریک مہیا کی، اُن کے اسلوب نے قارئین کو بھی مشکل، ناموافق حالات میں جینے کی راہ دکھائی۔ لیکن اس دوران نثر میں جب اور جہاں کہیں کسی عربی شاعر کا کلام روبرو آیا تو کچھ ایسی کیفیت طاری ہوتی جیسے شدید موسم گرما کے دوران ٹرانسفارمر کے جلنے سے اچانک بجلی چلی جائے۔
لیکن یہ زمانہ گزر چکا تھا۔ مولانا نے قلعہ احمد نگر کو پیش نظر رکھتے ہوئے پوچھا تھا کہ جسے ہم حال کہتے ہیں وہ فی الحقیقت ہے کہاں؟ لیکن پنجاب میں تو فی زمانہ گزرتے زمانے کو“بُرا حال تے بانکے دیہاڑے“ عنوان سے شناخت کر لیا جاتا ہے۔ خیر حال کی خرابی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اُس زمانے میں اُردو نثر کے اسالیب میرے جیسی تانگے کی سواریوں کے تخیل کے لئے فراوانی اور اثر آفرینی کا باعث تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کئی محققین، شعرا دولت گیٹ سے پیدل چلتے ہوئے اندرون پاک گیٹ معروف شاعر، ادیب ارشد ملتانی صاحب کے مطب پہنچ جاتے تھے، مطب کیا تھا، یہ ایک چھوٹی سی دکان تھی، جس کے دورازے کے قریب لکڑی کے بنچ رکھتے ہوتے تھے اور آخری کونے میں ایک بوسیدہ پردے کے عقب میں ایک ٹوٹے پھوٹے سٹریچر کے ساتھ دیوار میں نصب دراز پر آلات جراحی پڑے نظر آتے ہیں، ارشد صاحب جب جراحی کے کام میں منہمک ہوتے تو بڑے سے بڑا پھوڑا از قسم بھگندر بھی ان کی جراحی کے جلال کی تاب نہ لا سکتا تھا، کیا زمانہ تھا، گرمی کے موسم میں وہ غریب طبقے کے لوگوں کے لئے بہت بڑا سہارا تھے، کم و بیش ایک بجے کے قریب کام سے فراغت کے بعد ادبی مجلس کا آغاز ہو جاتا تھا، ہر آنے والے کو چائے پلائی جاتی تھی اگر کوئی ملنے والا نہ آئے تو فراغت کے لمحات میں علامہ نیاز فتح پوری کے نگا کے ملاحظات کا شوق سے مطالعہ کرتے تھے، یا فکر سخن میں مشغول ہو جاتے تھے، ایک بار کچھ محققین، شعرا کی آمد کے بعد چائے کا دور شروع ہی ہوا تھا کہ بوسکی کی قمیض اور دھوتی زیب تن کئے ہوئے ایک مضطرب لیکن گبرو نوجوان، پہلوان کا ورود ہوا اور دھوتی کی جانب اشارہ کر کے فور ی طور پر مَلّے(پھوڑے) کے ملاحظے، محاسبے کی درخواست کی، جسے قبولیت کا شرف بخشا گیا، اور فوری طور پر ٹوٹے ہوئے سٹریچر پر اوندھا لیٹنے کی ہدایت کی گئی، پھر ارشد صاحب نے احباب سے پیشہ ورانہ مصروفیت کے باعث معذرت کی اور اوندھے پہلوان کی جراحت کے لئے پردے کے پیچھے چلے گئے، لیکن کچھ جھلکیاں بنچوں پر بیٹھے اہل قلم اور اکھاڑا مونا پہلوان کے نکڑو جی دار تک بھی پہنچیں، جو کہ اس وقت اپنے پھوڑے کا معائنہ کرانے کی نیت سے آیا تھا۔ جستہ جستہ کچھ جھلکیاں پردے کے عقب سے دکھائی دے رہی تھیں، ارشد صاحب نے بوسکی کی قمیض کی تعریف کی، پھر نشتر سنبھال دھوتی کا پلو اٹھایا، تو اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی پہلوان نے آہ و بقا اور چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا لیا، اور بعض اہل قلم نے تو چائے کے بغیر ہی رخصت ہونے کا فیصلہ کر لیا، لیکن ارشد صاحب کے لئے یہ ایک معمول کا واقعہ تھا۔ اہل قلم کے ساتھ چائے پینے کے بعد وہ دلی مسلم ہوٹل پہنچ کر معاصر شعرا کا کلام سننے میں مصروف ہو گئے۔
زمانہ یا وقت گزرنے سے واقعات کے بیان میں مبالغے یا افسانے کا رنگ نمایاں ہو جاتا ہے، ما بعد کی شام کی محفلوں میں جب کبھی ارشد ملتانی صاحب کو اُن کے کلینک کا یہ واقعہ سنایا تو حیران ہو کر ہنس پڑتے تھے۔ کم و بیش نصف صدی پر محیط اُن کی جراحی کی سرگرمیوں سے کسی کو کوئی شکایت نہ ہوئی، اتنے ہی عرصے پر محیط انہوں نے شاعری و تنقید کی مجالس میں بھی شرکت کی، ایک تنقیدی نشست کے دوران ایک نوجوان شاعر کی نظم پر رائے دی تو اگلے دن شاعر نے دولت گیٹ کے ریستوران میں تلملاتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ ظالم نے نظم کو ایہو جیا گھاپا لایا جیویں مَلّا کٹیندا ہِ(نظم کو ایسا زخم لگایا ہے جیسے پھوڑے کو کاٹا جاتا ہے) ریستوران کی ایک نشست میں ارشد صاحب نے یہ واقعہ سنتے ہوئے سگریٹ سلگایا اور ہنس کر باتوں میں محو ہو گئے۔ کیا زمانہ تھا، جو گزر گیا۔۔۔
صلاح الدین حیدرکی یاد نگاری / کیا زمانہ تھا : ارشد ملتانی کی جراحی اور پہلوان کا رنگِ تغزل
ایڈیٹر5 Views

