Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, اگست 16, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • بے نظیر اور شہباز کا مارچ 1990: نصرت جاوید کا کالم
  • کیا اب مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ؟ ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • بلوچستان: کچھی میں پل کو دھماکے سے نقصان، چاغی میں مشینری نذرِ آتش
  • نئے صوبوں سے پہلے مضبوط مقامی حکومتیں کیوں ضروری ہیں؟ شاہنواز خان کا کالم
  • آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
  • یوم آزادی: حب الوطنی اور غداری کے بیچ خونیں لکیر : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • نام ور ترقی پسند دانشور پروفیسر امین مغل لندن میں انتقال کر گئے
  • سنگین جرائم کی آماجگاہ بنا اسلام آباد : نصرت جاوید کا کالم
  • ملتان ایئرپورٹ سے ایک دن میں 37 پروازوں کا نیا ریکارڈ
  • عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم کی جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»بے نظیر اور شہباز کا مارچ 1990: نصرت جاوید کا کالم
لکھاری

بے نظیر اور شہباز کا مارچ 1990: نصرت جاوید کا کالم

ایڈیٹراگست 16, 20261 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
benazir 1988
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

فلسفے کا نصابی طالب علم رہا ہوں۔ اس مضمون کا مگر ڈگری لینے کے لئے ہی استعمال کیا تھا۔ تعلیم ’’مکمل‘‘ ہوتے ہی صحافت کل وقتی پیشے کے طورپر اپنالی۔ اس نے کئی دہائیوں تک ضرورت سے زیادہ عزت، تھوڑی شہرت اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے والی آمدنی کے قابل بنادیا۔ زندگی ان تینوں کے ساتھ یوں ہی گزرہی جاتی مگر 2011ء سے ایک کرشمہ ساز شخصیت کی بنائی جماعت نے سوشل میڈیا پر کامل اجارہ قائم کرلیا۔ فیس بک اور ٹویٹر پاکستان کو غلامی اور تباہی کے گرداب میں دھکیلنے والے کرداروں کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہوگئے۔ ان کی بدولت مجھے علم ہوا کہ سکول سے کالج داخلے کے وقفے کے دوران ’’انقلابی‘‘ ہوا یہ خاکسار ’’لفافہ‘‘ ہے۔ حکمرانوں سے ’’ٹوکریاں‘‘ وصول کرنے کے علاوہ پراپرٹی کے دھندے سے مشہور ہوئے ایک سیٹھ سے قیمتی پلاٹ اور لاکھوں روپے بھی وصول کرچکا ہے۔ ’’کاش…‘‘ کی تمنا کے ساتھ دل ٹوٹ گیا۔ ڈھیٹ ہڈی نے مگر جلد ہی خود کو سنبھال لیا۔
آواز سگاں سے گھبرا کر گوشہ نشینی اختیار کرنا میرے بس میں نہیں۔ زندہ رہنے کے لئے صحافت کے سوا کسی اور ہنر سے آگاہ ہی نہیں۔ اس حوالے سے ’’چکی کی مشقت‘‘ جاری رکھنا ضروری ہے۔ میری ڈھٹائی سے اکتاکر سوشل میڈیا کے تلنگے بتدریج مجھے بھلاناشروع ہوگئے۔ گزشتہ چند دنوں سے مگر انہیں دوبارہ یاد آنا شروع ہوگیا ہوں۔ وجہ اس کی وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب کا سیٹھوں کی جانب سے ملک سنوارنے کے ذرائع ڈھونڈنے کے لئے نہایت اہتمام سے منعقد ہوئی تقریب کے خطاب سے تھا۔ مذکورہ خطاب کی بدولت نقوی صاحب نے لگی لپٹی رکھے بغیر پیغام دیا کہ حکومتی بندوبست -جس کا وہ خود بھی اہم اور طاقتور حصہ ہیں۔ گل سڑچکا ہے۔ اسے ری سیٹ کرنا ہوگا۔
نقوی صاحب کے خطاب کو طاقتور حلقوں کی جانب سے آئی ’’وارننگ‘‘ تصور کرتے ہوئے ریگولر اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی میں مصروف بقراط نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹوں کی افادیت اجاگر کرنا شروع ہوگئے۔ مکدی گل کرنے والوں نے ایسی مشقت سے پرہیز کیا۔ لڈیاں ڈالتے یہ دعویٰ کرنا شروع ہوگئے کہ شہباز حکومت کو بستر لپیٹنے کا پیغام نقوی صاحب کی تقریر کے ذریعے پہنچادیا گیا ہے۔ چند ہی دنوں میں نقوی صاحب نے مگر اپنی پسند کے دو صحافیوں کے ساتھ ’’سرِ راہ‘‘ گفتگو کرتے ہوئے مضطرب دلوں کو یہ کہتے ہوئے تسلی دی کہ شہباز حکومت کہیں نہیں جارہی۔ آئینی مدت پوری کرے گی۔
نقوی صاحب کے سنسنی پھیلادینے والے خطاب پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے میں نے گریز کیا۔ اس کے بجائے مئی 1988ء سے اپریل 2022ء تک مختلف حکومتوں کی فراغت کو نہایت قریب سے دیکھ کر رپورٹ کرتے ہوئے مشاہدات کی بدولت چند بنیادی نکات پر توجہ دلانے کی کوشش کی۔ متعدد کالم مذکورہ نکات کو ذاتی مشاہدات کے تفصیلی ذکر کے ساتھ بیان کرنے کی نذر کردئے۔
بنیادی پیغام تھا کہ وطن عزیز میں ’’گلے سڑے نظام‘‘ کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے کی خواہش نئی نہیں۔ 1958ء میں جنرل ایوب خان کے لائے ’’انقلاب‘‘ کا جواز ہی ’’ری سیٹ‘‘ بتایا گیا تھا۔ جنرل ضیاء ملک میں ’’خانہ جنگی‘‘ رکوانے کے نام پر اقتدار میں آئے تھے۔ اقتدار مستحکم کرتے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دلوائی۔ ضلعی حکومتوں کے ذریعے لوگوں کے گھروں تک حکومتی خدمات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ بعدازاں مغربی جمہوریت کا ’’اسلامی متبادل‘‘تلاش کرنا شروع ہوگئے۔ اس جانب مگر کامل توجہ نہ دے پائے۔ دسمبر1979ء میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو وہ امریکہ اور یورپ کے ’’اہل کتاب‘‘ کے ساتھ مل کر ’’افغان جہاد‘‘ کی سرپرستی میں مصروف ہوگئے۔ جنرل مشرف بھی مرتے دم تک مصر رہے کہ وہ اقتدار سنبھالنا نہیں چاہ رہے تھے۔ نواز شریف کی جانب سے ان کی سری لنکا سے پاکستان آتی پرواز کے دوران برطرفی نے مگر انہیں 12اکتوبر 1999ئکے روز اقتدار سنبھالنے کو مجبور کردیا۔ اقتدار سنبھالا تو احساس ہوا کہ وطن عزیز کو ’’قومی تعمیر نو‘‘ کی ضرورت ہے۔ اسے فراہم کرنے کی تگ و دو میں لگے تھے کہ نائن الیون ہوگیا اور افغانستان سے ’’دہشت گردوں‘‘ کا صفایا ’’افغان جہاد‘‘ کے سابق پشت پناہوں کے لئے لازمی ہوگیا۔
مذکورہ نکتے پر توجہ دلانے کے بعد اس نکتے کو اجاگر کرنا بھی ضروری سمجھا کہ حکومتیں ’’اچانک‘‘ فارغ نہیں ہوا کرتیں۔ ان کی رخصت کی تیاری میں کئی ماہ صرف ہوجاتے ہیں۔ حکمرانی کے خمارمیں طاقتور عہدوں پر براجمان افراد مگر اپنے خلاف پکتی ہانڈی کی خوشبو سونگھنے کی حس سے محروم نظر آتے رہے ہیں۔ مذکورہ نکتے پر مزید توجہ دلانے کے لئے 6اگست 1990ء کے دن محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی فراغت سے مختص ذہن میں موجود چند یادوں کو بیان کردیا۔
نقوی صاحب کے خطاب پر ’’ایہہ منظور تے ایہہ نا منظور‘‘ والا رویہ اختیار کرنے کے بجائے اس کے اسباب اور مضمرات پر توجہ نے یک سطری جوابات کے منتظر سوشل میڈیائی تلنگوں کو مشتعل بنادیا۔ نقوی صاحب کے خطاب کے بعد لکھے کالم سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوتے ہی ان کا ایک گروہ اس بزدل اور بکا? صحافی کو حق سچ بیان کرنے سے گریز کے طعنے دینا شروع کردیتا۔ ستر برس سے بڑی عمر والے قائدکے عاشقان ’’بڈھے لفافی‘‘ کو ریٹائر ہونے کے مشورے بھی دینے لگے۔ چند تلنگوں کی اس حوالے سے استعمال ہوئی زبان نے اکثر مجھے یہ سوچنے کو مجبور کردیا کہ شاید انہوں نے اپنے بوڑھے والد کو ناکارہ تصور کرتے ہوئے کْچلا دے کر دنیا سے رخصت کردیا ہوگا۔
غوغائے رقیباں مگر اس ڈھیٹ ہڈی کو نقوی صاحب کی زبانی دئے ’’ری سیٹ‘‘ والے پیغام کو نظرانداز کرنے کو مجبور کر نہیں سکتا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی فراغت کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے فروری 1989ء میں سوویت افواج کی افغانستان سے رخصت کا ذکر کیا تھا۔ سردجنگ میں امریکہ کا حریف کمیونسٹ روس افغانستان سے دم دباکر رخصت ہوگیا تو افغان مجاہدین کو حریت پسندی کی علامات ٹھہراتے امریکہ کو یہ مجاہد ’’دہشت گرد‘‘ نظر آنے لگے۔ پاکستان کے افغانستان کی ’’آزادی‘‘ میں کردار کو سراہنے کے بجائے اسلام آباد واشنگٹن کی نگاہ میں مارچ 1990ء تک یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے ’’ریڈ لائن کراس‘‘ کرچکا تھا۔ اسے باز رکھنے کے لئے ان دنوں امریکی صدر کے قومی سلامتی کے امور کے بارے میں نائب معاون -رابرٹ گیٹس- ہنگامی دورے پر اسلام آباد آیا۔ اس کی آمد کا مقصد بھانپ کر محترمہ بیرون ملک روانہ ہوگئیں۔ ان کی عدم موجودگی میں رابرٹ گیٹس کو صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف مرزا اسلم بیگ سے ملاقاتیں کرنا پڑیں۔ مختصر الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو عملی اعتبار سے مارچ 1990ء ہی میں فارغ ہوگئی تھیں۔ اس کا رسمی اعلان اگرچہ اگست 1990ء میں ہوا۔ اس جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ خاکسار محض یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ شہباز شریف صاحب کا ’’مارچ 1990‘‘ ہوچکا ہے یا نہیں۔ اگرہوچکا ہے تو ہمیں اس کی خبر کیوں نہ ہوئی؟
( بشکریہ : نوائے وقت )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکیا اب مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ؟ ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

کیا اب مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ؟ ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

اگست 15, 2026

بلوچستان: کچھی میں پل کو دھماکے سے نقصان، چاغی میں مشینری نذرِ آتش

اگست 15, 2026

نئے صوبوں سے پہلے مضبوط مقامی حکومتیں کیوں ضروری ہیں؟ شاہنواز خان کا کالم

اگست 15, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • بے نظیر اور شہباز کا مارچ 1990: نصرت جاوید کا کالم اگست 16, 2026
  • کیا اب مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ؟ ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف کا کالم اگست 15, 2026
  • بلوچستان: کچھی میں پل کو دھماکے سے نقصان، چاغی میں مشینری نذرِ آتش اگست 15, 2026
  • نئے صوبوں سے پہلے مضبوط مقامی حکومتیں کیوں ضروری ہیں؟ شاہنواز خان کا کالم اگست 15, 2026
  • آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم اگست 14, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.