14 اگست 1947 برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن دن تھا، جب لاکھوں قربانیوں، بے گھری کے کرب اور خونریز فسادات کے بعد پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ تاریخی تحقیقات کے مطابق تقسیمِ ہند کے دوران ایک کروڑ سے زیادہ افراد نے ہجرت کی، جبکہ مختلف مستند اندازوں کے مطابق دو لاکھ سے بیس لاکھ تک انسان جان کی بازی ہار گئے۔ ان شہداء میں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ سب شامل تھے۔
قیامِ پاکستان کے وقت وسائل محدود تھے، خزانہ تقریباً خالی تھا، صنعتیں نہ ہونے کے برابر تھیں اور انتظامی ڈھانچہ بھی ابتدائی مراحل میں تھا، لیکن قوم کے حوصلے بلند تھے۔ بعد کی دہائیوں میں پاکستان نے اپنی محنت اور قومی سرمایہ کاری سے پاکستان اسٹیل ملز، پی آئی اے، واپڈا، او جی ڈی سی ایل، سوئی ناردرن گیس، نیشنل بینک، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان، کراچی شپ یارڈ، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور متعدد قومی ادارے قائم کیے۔ یہی ادارے ملکی معیشت، صنعتی ترقی اور خودمختاری کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ پاکستان کے پاس زرخیز زرعی زمینیں، دنیا کا بڑا نہری نظام، اہم بندرگاہیں، معدنی وسائل اور ایک نوجوان افرادی قوت بھی موجود تھی، جو ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
بدقسمتی سے وقت کے ساتھ حکمرانی کے انداز میں ایسی کمزوریاں پیدا ہوئیں جنہوں نے قومی وسائل کو مضبوط بنانے کے بجائے انہیں کمزور کیا۔ عوام سے مسلسل قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا، مگر اقتدار اور وسائل پر قابض اشرافیہ کی مراعات میں خاطر خواہ کمی نہ آ سکی۔ مہنگائی بڑھی تو اس کا بوجھ عام آدمی نے اٹھایا، بجلی، گیس اور پیٹرول مہنگا ہوا تو قیمت عوام نے ادا کی، نئے ٹیکس لگے تو ان کا زیادہ بوجھ بھی عام شہری پر آیا، جبکہ بدانتظامی، کرپشن اور ناقص معاشی فیصلوں کی ذمہ داری کبھی بھی پوری طرح ان لوگوں پر عائد نہ ہو سکی جنہوں نے یہ پالیسیاں بنائیں۔
پاکستان آج تقریباً 77 کھرب روپے کے سرکاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جبکہ بیرونی قرضے 130 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ہر سال وفاقی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ، تقریباً 8.2 کھرب روپے، صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیم، صحت، تحقیق، زراعت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔ جب قومی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی پر خرچ ہو تو ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے اور عوام کی زندگی میں بہتری لانے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔
پاکستان نے 1958 سے اب تک متعدد مرتبہ آئی ایم ایف سے مالی معاونت حاصل کی ہے۔ ہر پروگرام کے ساتھ ٹیکس اصلاحات، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سبسڈی میں کمی، روپے کی قدر میں ایڈجسٹمنٹ اور مالیاتی نظم و ضبط جیسی شرائط سامنے آتی ہیں۔ حکومتیں انہیں معیشت کی بہتری کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں، لیکن عام شہری کے لیے ان کے نتائج اکثر مہنگائی، قوتِ خرید میں کمی اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئے قرض کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے کہ کیا معاشی فیصلوں میں ہماری خودمختاری پہلے جیسی باقی رہ گئی ہے؟
گزشتہ دو دہائیوں میں ایسے کئی بڑے انفراسٹرکچر، توانائی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے جو بیرونی قرضوں یا طویل المدتی مالیاتی معاہدوں کے ذریعے مکمل ہوئے۔ ان منصوبوں کی اصل رقم اور اس پر سود کی ادائیگی کئی صورتوں میں بیس سے تیس برس یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان منصوبوں کی مالی ذمہ داری صرف موجودہ حکومت تک محدود نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس بوجھ کو اٹھائیں گی۔ قرض لے کر ترقیاتی منصوبے بنانا دنیا بھر میں ایک معمول کی معاشی حکمت عملی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان منصوبوں سے اتنی معاشی پیداوار حاصل ہو رہی ہے جو ان قرضوں اور سود کی ادائیگی کو آسان بنا سکے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو پھر یہ ترقی وقتی دکھائی دیتی ہے جبکہ اس کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
اس تمام منظرنامے کے باوجود پاکستان وسائل سے محروم ملک نہیں۔ ریکوڈک کے سونے اور تانبے کے ذخائر، تھر کا کوئلہ، زرخیز زرعی زمینیں، گوادر بندرگاہ، نوجوان آبادی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سالانہ تقریباً 38 سے 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں ترقی کی بے شمار صلاحیت موجود ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ شفاف حکمرانی، مؤثر منصوبہ بندی، میرٹ، احتساب اور قومی ترجیحات کا ہے۔
آزادی صرف سرحدوں کے وجود کا نام نہیں بلکہ معاشی خودمختاری، مضبوط اداروں، قانون کی بالادستی اور عوامی خوشحالی کا نام بھی ہے۔ اگر ایک ریاست مسلسل قرضوں پر انحصار کرے، اگر ہر بجٹ میں عوام پر نئے مالی بوجھ ڈالے جائیں اور اگر ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک نہ پہنچ سکیں تو یہ صورتحال سنجیدہ خود احتسابی کا تقاضا کرتی ہے۔ آزادی کی حفاظت صرف قومی ترانے، پرچم کشائی یا تقاریب سے نہیں ہوتی بلکہ دیانت دار قیادت، مضبوط معیشت، شفاف حکمرانی اور قومی وسائل کے منصفانہ استعمال سے ہوتی ہے۔
آج آزادی کے ۷۹ برس بعد سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے ان لاکھوں قربانیوں کے اصل مقصد کو حاصل کر لیا ہے، یا اب بھی ہمیں اپنی معاشی پالیسیوں، حکمرانی کے نظام اور قومی ترجیحات پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے؟ اس سوال کا جواب مایوسی میں نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ احتساب، بہتر پالیسی سازی، قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور قانون کی یکساں عملداری میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم نے ان شعبوں میں اصلاحات نہ کیں تو سیاسی آزادی برقرار رہنے کے باوجود معاشی خودمختاری کا خواب ادھورا ہی رہے گا، لیکن اگر ریاست اور معاشرہ مل کر دیانت داری، میرٹ، شفافیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح بنا لیں تو وہ پاکستان، جس کا خواب لاکھوں شہداء نے دیکھا تھا، آج بھی حقیقت بن سکتا ہے۔
اتوار, اگست 9, 2026
تازہ خبریں:
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ

