ملتان ۔۔ رپورٹ شہزاد عمران خان ۔۔ تین روزہ ملتان لٹریری فیسٹیول سیزن 6 میں گردوپیش پبلی کیشنز کا کتاب میلہ ملتان اور گرد و نواح سے آئے ہوئےمہمانوں خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات اور دانش وروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔۔ میلے کے تین دنوں میں صبح نو سے دو بجے تک اس میلے میں 100 کتابوں کی تعارفی تقریب میں 86 قلم کار شریک ہوئے ۔۔ اس موقع پر نام ور نقاد و ماہر تعلیم ڈاکٹر مختار ظفر ، نام ور ماہر نفسیات اور لٹریری فیسٹیول کے میزبان ڈاکٹر اختر علی سید ، کتاب میلے کے میزبان رضی الدین رضی ، معروف سکالر انجینئر عبدالحکیم ملک اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے اس کتاب میلے کو نئی نسل کی فکری تربیت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ۔۔
17 اکتوبر کتاب میلے کا پہلا روز

کتاب میلے کے پہلے روز کی صدارت نام ور مصنف اور ماہر نفسیات ڈاکٹر اختر علی سید کی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلہ ہم سب کے استاد پروفیسر خالد سعید کا خواب تھا جو اس خطے میں امن محبت اور انسان دوستی کے علم بردار تھے ۔۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے رضی الدین رضی نے کہا کہ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی منفردتقریب ہے جس میں مصنفین اپنی کتابوں اور زندگی کے سفر پر خود اظہار خیال کر رہے ہیں ۔۔ نامورمحقق اور اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ انجینئیر عبدالحکیم ملک نے کہا کہ کتاب میلے کے ذریعے مصنفین کی پذیرائی نے ان کا حوصلہ بڑھایا ہے ۔ اس موقع پر اشفاق احمد غوری ، ڈاکٹر الیاس کبیر ، اظہر سلیم مجوکہ ، رانا تصویر احمد ، جاوید یاد ، ڈاکٹرخان محمد ساجد ، ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا ، احمد مسعود قریشی ، میر احمد کامران مگسی ، خواجہ مظہر نواز صدیقی ، اسلم جاوید ، محمد مختار علی ، ڈاکٹر ریاض حسین ، جام عابد ، منیر ابنِ رزمی ، منیر ہاشمی اور ڈاکٹر اشرف جاوید ملک نے بھی خطاب کیا ۔۔
18 اکتوبر کتاب میلے کا دوسرا روز

نامور نقاد اور ماہر تعلیم نامور نقاد ڈاکٹر مختار ظفر نے دوسرے روز کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کے دوران کہا کہ کتاب میلہ نئی نسل کو کتاب کے ساتھ جوڑنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اس کتاب میلے میں 100 کتابوں کی تعارفی تقریب کے دوسرے روز حاضرین سے خطاب کے دوران کیا دوسرے روز کے میلے میں رانا محبوب اختر راؤ افتاب عارض سلیم قیصر شاہد عباس شکیل پتافی شوکت نعیم قادری شہزاد عمران خان صائمہ نورین بخاری ظفر عباس نقوی عامر حسینی ، عبدالقیوم ،عامل جام پوری علی عمران ممتاز ، عنایت علی قریشی ، ڈاکٹر خدیجہ وکیل، ۔مختار بھٹہ۔ ڈاکٹر محبوب تابش ، ڈاکٹر جاوید پتافی گل نسرین ڈاکٹر اور اخلاق قادری کے نام قابل ذکر ہیں اس کے علاوہ اس میلے میں امجد رامے محمد مختار علی اور لقمان لقمان ناصر نے بھی شرکت کی ۔

میلے کے تیسرے روز میلے میں غیر معمولی چہل پہل تھی اس موقع پر نامور نقاد، محقق، دانشور اور مقتدرہ قومی زبان کے سابق سربراہ ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ "گرد و پیش” کے تین روزہ کتاب میلے میں نوجوان طلبا و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت کتاب سے ان کی گہری وابستگی اور محبت کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ جتنے بھی قلم کاروں نے اپنی کتابیں اس میلے کے لیے بھیجی ہیں، کوئی صاحبِ استطاعت شخص وہ تمام کتابیں خرید کر ان مصنفین میں وہ رقم تقسیم کر دے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں اپنی تصانیف شائع کروائیں، یہ ان کے جذبہِ علم و ادب کو خراجِ تحسین ہوگا۔کتاب میلے کے میزبان رضی الدین رضی نے بتایا کہ علی نقوی اور ڈاکٹر اختر علی سید کا سجایا ہوا ملتان لٹریری فیسٹیول اب شہر کی ادبی و ثقافتی شناخت بن چکا ہے۔میلے کے تیسرے روز جن مصنفین کی کتابوں کی رونمائی کی گئی ان میں اختر مرزا، اشہر حسن کامران، رانا تصویراحمد، شاہد راحیل خان، شوکت نعیم قادری، عامر شہزاد صدیقی، ڈاکٹر علی اطہر، مختار حسین سومرو، مرتضیٰ اشعر، ڈاکٹر مقبول گیلانی، نئیر مصطفیٰ، مسرورحسن صدیقی اور دیگر شامل ہیں۔

