اسلام آباد : پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی اور صوبائی اداروں کے اتوار کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف واقعات میں مجموعی طور پر کم از کم آٹھ اموات ہوئی ہیں جبکہ 26 جون سے چھ جولائی تک 10 دنوں میں 74 افراد جان سے جا چکے ہیں۔
حکام نے 10 جولائی تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیبرپختونخوا میں چار اموات
خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں سمیت میدانی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ گذشتہ روز سے جاری ہے، جس کی وجہ سے ندی نالیوں میں طغیانی اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورت حال اور ندی نالوں میں طغیانی کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ دو زخمی ہوئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق مانسہرہ میں گذشتہ رات تقریباً دو بجے طوفانی بارش کی وجہ سے جابہ چناری فریش کے قریب نالے میں اچانک طغیانی کے باعث ناران سے واپس آنے والا موٹر سائیکل سوار بہہ گیا۔
موٹر سائیکل سوار شہباز کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق نوجوان کی لاش گہوڑ کی مقام سے برآمد کی گئی۔
اسی طرح ملاکنڈ میں ریسکیو 1122 کے مطابق ہیرو شاہ منڈی کی ندی میں سیلابی ریلے کی وجہ سے خاتون سمیت دو بچے بہہ گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران خاتون اور ایک بچے کی لاش برآمد کر لی گئی جبکہ ایک بچے کو زندہ بچا لیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ آبپاشی کے مطابق مون سون بارشوں کا سلسلہ 10 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے دریائے کابل سمیت مختلف ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ایڈوائزی میں بتایا گیا ہے کہ مون سون بارشوں اور گذشتہ دنوں درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیئرز پھٹنے کا خطرہ ہے، جس سے سیلابی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
مختلف اضلاع میں دریا کے کنارے جانے اور دریا میں نہانے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد ہے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کو دریاؤں سے دور رہنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
فیس بک کمینٹ

