واشنگٹن : امریکا کی ریاست ٹیکساس کے وسطی علاقے میں سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 59 ہو گئی ہے جبکہ 27 بچوں سمیت متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے سینکڑوں امدادی کارکن تعینات ہیں۔
سیلاب سے سب زیادہ ٹیکساس کی کیر کاؤنٹی متاثر ہوئی ہے جہاں اب تک 43 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دریائے گواڈیلوپ کے کنارے ایک یوتھ کیمپ کے 27 بچے تاحال لاپتہ ہیں۔
کیر کاؤنٹی کے شیرف لیری لیتھا کا کہنا ہے کہ تلاش کا کام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام افراد کو ڈھونڈ نہیں لیا جاتا۔
اس کے علاوہ ریاست کے دیگر حصوں بشمول ٹریوس کاؤنٹی اور ٹام گرین کاؤنٹی میں بھی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق، اب تک تقریبا 850 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ اب بھی وسطی ٹیکساس میں ہفتے کے اختتام پر سیلاب کی متعدد وارننگز جاری کی گئی ہیں۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے سنیچر کی سہ پہر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انھوں نے تلاش کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے ایک توسیعی اعلامیے پر دستخط کیے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتھک کوشش کریں گے کہ ’اس واقعے کا شکار ہونے والے ہر ایک شخص‘ کا پتہ لگایا جائے۔
فلڈ وارننگ نہ دیے جانے پر اُٹھنے والے سوالات
جب شہر کے حکام پریس سے سوالات کا جواب دے رہے ہیں تو سٹی منیجر ڈالٹن رائس سے پوچھا گیا کہ ’سیلاب سے پہلے لوگوں کو کیوں متنبہ نہیں کیا گیا اور انھیں یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں؟‘
رائس کا اس پر جواب تھا کہ ’اس وقت توجہ خاندانوں کو دوبارہ ملانے کی ہے اور جب تک ہم انھیں ڈھونڈ نہیں لیتے ہمارا کام جاری رہے گا۔ (یعنی لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے)۔
اپنے اس بیان کے بعد سٹی منیجر ڈالٹن رائس پریس کانفرنس سے اُٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ تاہم اُن کے جانے کے بعد بہت سے سوالات سُننے کو ملے کے آخر ’فلڈ وارننگ کیون نہیں دی گئی؟‘
( بشکریہ : بی بی سی )
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

