Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, اگست 26, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق
  • ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
  • خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ
  • سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم
  • آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ
  • عمران خان کی بیماری پر سیاست اور حکومت کی بدحواسی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • راولپنڈی میں خاتون کی باتھ روم سے لاش برآمد، شوہر اور ملازم گرفتار
  • ہائبرڈ اور آمرانہ نظام مستقل نہیں چلتے : ارشد بٹ ایڈووکیٹ کا تجزیہ
  • مجھے عمران خان کا حامی کس نے بنایا ؟ حکمرانوں سے ایک سوال :کمالیات / کمال ایوب صدیقی کا کالم
  • معاشی خللِ تَوَجُّہ یا انحرافِ توجہ؟؟ : کیا ہم پر قرضوں کا بوجھ واقعی کم ہو گیا ہے ؟ فہیم عامر کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم :مظلوم کون؟ خلیل الرحمن قمر یا آمنہ عروج؟
تازہ ترین

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا کالم :مظلوم کون؟ خلیل الرحمن قمر یا آمنہ عروج؟

ایڈیٹراگست 2, 202430 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اصلیت سے واقف ہوتے ہوئے بھی اگر، مگر، لیکن، چونکہ، پھر بھی، وہ لڑکی۔ کا گیت گانے والوں کو دیکھ کر ہم خود کلامی کرتے ہوئے اپنے آپ سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں ؛
”یہ کیسی ہمدردی ہے جو ایک شخص کے عورت کے خلاف شدید جارحانہ پن، متشدد الفاظ اور اسے ارزاں مخلوق سمجھنے کی رٹ لگائے ہوئے شخص کے لیے اس کے بھائی بندوں کے رگ و پے میں اتر آئی ہے“
چونکہ تشخیص کرنے کے مرض میں ہم مبتلا ہیں نہ صرف پیشے کے اعتبار سے بلکہ دائمی مرض بھی یہی ہے سو سوچ بچار کے بعد علم ہوا کہ معاشرہ ”Himpathy“ کا شکار ہے۔
صاحبان علم sympathy سمپتھی اور empathy ایمپیتھی کے بارے میں تو جانتے ہی ہوں گے۔ sympathy کسی دوسرے انسان کو مشکل میں دیکھ کے ہمدردی کا نام ہے اور empathy وہ خاص قسم کی ہمدردی جو کسی دوسرے کے کڑے وقت کے خیالات و جذبات کو اپنے پہ طاری کر کے محسوس کی جائے۔ مگر یہ ہم پیتھی Himpathy کیا ہے آخر؟
کورنل یونیورسٹی امریکہ کی فلاسفر پروفیسر کیٹ مین ( Kate Manne) نے himpathy کی اصطلاح اپنی کتاب Down Girl روشناس کرائی ہے۔ ان کی دوسری کتاب کا نام Entitlement ہے۔
” یہ وہ ناجائز اور حقیقت سے ماورا ہمدردی ہے جو مسوجنسٹ مردوں کو عورت پہ ہر طرح کی زیادتی یا بدتمیزی کرنے کے باوجود دی جاتی ہے“
اسی بات کو بیٹی فریڈن نے 1963 میں اپنی مشہور عالم کتاب The feminine Mystique میں ایک ایسے مسئلے کے طور پہ اجاگر کیا ہے جو معاشرے میں موجود تو ہے لیکن کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔
Himpathy پدرسری معاشرے کا وہ بدصورت سچ ہے جہاں مرد کسی بھی گھٹیا صورت حال سے بری الذمہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے تحاشا ہمدردی کا مستحق بھی ٹھہرتا ہے اور اس کے ہر فعل کی توجیہہ گھڑ لی جاتی ہے۔
لڑکی کا نام آپ لوگ کیوں نہیں لیتے؟
لڑکی بھی برابر کی ذمہ دار ہے۔ اس کے خلاف بھی بولیں نا۔
مذاق مت اُڑائیں۔ برا وقت کسی پہ بھی آ سکتا ہے۔
یہ سب ڈرامہ ہے۔
وہ معاشرے کا نامور آدمی ہے، ہمیں اس کی خدمات فراموش نہیں کرنی چاہئیں۔
بجا جناب۔ آپ کا کہا سن لیا ہم نے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس لڑکی نے میڈیا پہ بیٹھ کر اخلاقیات پہ لیکچر کبھی نہیں دیا اور مرد حضرات کے خلاف کبھی کوئی ایسی مہم نہیں چلائی جو محترم کا کارنامہ ہے۔ دوسرے اس نے معاشرے میں ایسا کوئی زہر نہیں پھیلایا کہ آج ہم اس کا حساب مانگیں؟
جس گینگ کا وہ حصہ ہے تو نہ جانے کس کمزوری نے اسے جرم کی دنیا میں دھکیل دیا ہے؟ نہ جانے اس گینگ کے مردوں نے اس کی کیا گت بنائی ہو گی؟ نہ جانے کیسے وہ وڈیو میں کٹھ پتلی بنی؟ سوچئیے جس گینگ نے خلیل جیسے گھاگ اور شاطر کو قابو کر لیا، آمنہ عروج کی کیا بساط کہ یہ کھیل کھیلنے سے انکار کرتی؟
یہی تو ہمیں افسوس ہے کہ پدرسری نظام اگر کسی گھاگ مرد کو گھیر کر تختے پر لانا چاہے، اس کا چارہ عورت کو ہی بننا پڑتا ہے۔ نہ جانے کس مجبوری کے عوض؟
دوسری طرف رائٹر صاحب کی زبان اور قلم سے نکلے ان انگاروں کو کیسے بھولیں جن سے اس مرد نے ملک کی تقریباً ہر عورت کو جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ مرد جب چاہتا عورت کو دو ٹکے کا کہہ کر پکارتا، جب چاہتا طوائف قرار دیتا۔ جب جی چاہتا عورت کے جسم کو رگید دیتا، جب موڈ ہوتا موم بتی والی عورتوں کو کوستا۔ جب چاہتا لڑکیوں کو بے عزت کر کے ایک کمینی ہنسی کے ساتھ سگریٹ کے کش لگاتا۔
اس کی باتیں سن کر محسوس ہوتا کہ ہر عورت اپنی عزت ہتھیلی پہ رکھے بازار میں نیلام کرنے کے لئے گھوم رہی ہے۔ چڑیلیں اور جادوگرنیاں، طوائفیں، گندے جسم والیاں جن پہ صاحب تھوکنا بھی پسند نہ کریں۔ کم عقل، جاہل، ذلیل، کمینی، حرام زادی، گھٹیا، بے حیا، بے وفا، بے شرم، غرض کی پتلیاں۔
یہ زہریلا راگ سن سن کر کان پک گئے اور کراہت محسوس ہونے لگی۔ ہر بار ایک نیا الزام سننے کے بعد حیرت سے سوچا کہ کوئی شخص اتنا منفی کیسے ہو سکتا ہے؟ اور رب کے بنائے ہوئے انسان کو نیچ اور ارزاں ثابت کرنے کے لیے کیسے کوئی اپنے قلم کو پاتال میں گرا سکتا ہے، لفظ کی حرمت پامال کرتے ہوئے؟
لگتا تھا اس شخص نے کسی عورت کے بطن سے جنم نہیں لیا اور کسی عورت نے اس کے بچوں کو جنم نہیں دیا۔ سو عورت کے حوالے سے اس کے پاس کوئی اچھا خیال، یاد اور سوچ نہیں۔ اس کی آنکھ میں ایک ایسا لینز فٹ ہے جو ہر عورت کو دیکھتے ہی اس کا ایکس رے کرتا ہوا اسے وہ دکھاتا ہے جس کا سانچہ خلیل نے اپنے ذہن میں بنا رکھا ہے۔
اس کے مصاحبین اس کی کمر ٹھونکتے ہوئے قہقہے لگاتے۔ اسے آئینے میں اس کی اصل شکل دکھانے والا کوئی نہیں تھا سو ٹی وی سکرین پر اس کی زبان درازی اور عورت دشمنی حد پار کر گئی۔
لیکن سیانا کوا اپنے جال میں خود ہی پھنس گیا۔ دن کے اندھیرے میں عورت کو پھٹکارنے والا شخص رات کے اندھیرے میں عورت کی زلفوں کے سائے میں پناہ لینے کا شوقین تھا۔ یہی تو المیہ ہے پدرسری نظام کا، وہ عورت جو پاؤں کی جوتی سمجھ کر پہنی جاتی ہے، وہ ضرورت پڑنے پر مرد کی گندگی سمیٹنے کے لیے گھڑی دو گھڑی بستر پہ لائی جاتی ہے۔ خود کو حاکم سمجھنے والے کا خیال ہے کہ عورت کیسے برتی جائے گی اس کا فیصلہ وہ خود ہی کریں گے سو دن میں چھڑی کی چھمک اور رات میں بدبودار دہن!
مذہب کی آڑ میں کھل کھیلنے کے بعد جب محترم پکڑے گئے تو برادری تڑپ گئی۔ شطرنج پہ سب سے آگے رہنے والے مہرے کو پٹنے کیسے دیا جائے؟ وہی تو ہے جو موم بتی والی عورتوں کو نکیل ڈال کر رکھتا ہے سو چلاؤ مہم کہ ہائے بے چارہ۔ لٹ گیا بھرے بازار میں۔ نکل آئے مرد حضرات اپنے اپنے بھاشن لے کر۔
بس بھی کرو۔
ہائے بے چارہ مر نہ جائے کہیں؟ بندہ بشر ہے۔
کافی ہو گئی۔
کہیں عامر لیاقت والا حشر نہ ہو۔
اور تو اور ہمارے ایک عزیز نے ہمیں مشورہ دے ڈالا کہ بے چارے کی مورل سپورٹ میں کچھ لکھ دو۔ سوچیے ہمارا کیا حشر ہوا ہو گا؟
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمدردی کا اس قدر شدید بخار کیوں؟
اس لیے کہ اکثریت ہم پیتھی کا شکار ہو چکی ہے اور شکار ہونے والوں میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کم نہیں۔ کچھ تو وڈیوز بنا بنا کر محترم کی مجبوری بیان کر رہی ہیں۔ ایسے میں آمنہ عروج کا کوئی کیوں سوچے؟
اصل بات کچھ یوں ہے کہ پدرسری نظام کی بالا دستی سے جنگ کرنا گویا جلتے انگاروں پہ ننگے پاؤں چلنا ہے۔ اس راہ میں جو گالی گلوچ، پتھر، طعنے اور الزام حصے میں آتے ہیں، انہیں سہنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہی سہ سکتا ہے جسے پدرسری نظام کی بدصورتی پہ یقین ہو اور جو اس معاشرے کی سیاہی کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہو۔
سوشل میڈیا میں فالوورز اکٹھے کرنے، شہرت اور پیسہ کمانے کا شوق رکھنے والوں میں یہ دم خم کہاں؟
(بشکریہ:ہم سب)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

آمنہ عروج خلیل الرحمٰن قمر مظلوم ڈاکٹر طاہرہ کاظمی گردوپیش
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسید مجاہد علی کا تجزیہ: الیکشن ایکٹ ترامیم: سپریم کورٹ سے براہ راست تصادم کی کوشش
Next Article شہید اسماعیل ہنیہ کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مودی کی مسلمان دشمنی ، آج کا مغربی بنگال اور نومبر 1984 کی یاد : برملا / نصرت جاوید کا کالم

جون 29, 2026

حکومت کا پٹرولیم نرخوں میں مزید اضافے سے گریز ۔۔ مگر کب تک ؟ برملا / نصرت جاوید کا کالم

مارچ 16, 2026

ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : خوفزدہ بہار اور ہارا ہوا حوصلہ

فروری 7, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پمز ہسپتال اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی ، 14 نومولود جاں بحق اگست 26, 2026
  • ایوان صدر میں پیران طریقت کا ملاکھڑا : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم اگست 26, 2026
  • خاموش گھر : نبیلہ عصمت کا افسانہ اگست 26, 2026
  • سوشل میڈیا پرتضحیک اور کردار کشی : لائیکس کے لیے شخصیت داؤ پر نہ لگائیں ۔۔ پروفیسر صابر جروار کا کالم اگست 24, 2026
  • آمریت پہاڑ نہیں: محض ریت کی دیوار ہے : فہیم عامر کا تجزیہ اگست 23, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.