ڈیرہ اسماعیل خان :خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر اور جنوبی وزیرستان میں دو مختلف واقعات میں سیکیورٹی فورسز کے 3جوان شہید اور ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کیمپ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک عسکریت پسند مارا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دو زخمی عسکریت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا، بیان میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بی برآمد ہوا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔
ادھر جنوبی وزیرستان کے علاقے سرویکئی میں بارودی سرنگ پھٹنے سے دو فوجی شہید ہوگئے۔
شہید ہونے والے جوانوں کی شناخت اورکزئی سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ سپاہی بنارس خان اور خیبر سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ سپاہی عبدالکریم کے ناموں سے ہوئی۔
سی سی پی او پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ڈی آئی میں حملہ خان ہفتہ کو دیر گئے سی پیک یارک ٹول پلازہ کے قریب ہکلا ڈی آئی خان موٹروے پر ہوا۔
یارک تھانے کی حدود میں 15 سے 20 حملہ آوروں نے پولیس کیمپ پر دھاوا بول دیا۔
شہید کانسٹیبل کی شناخت شیر عالم کے نام سے ہوئی جو موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔
فائرنگ کافی دیر تک جاری رہی، اس دوران دستی بموں کا بھی استعمال کیا گیا، حملے کے بعد عسکریت پسند فرار ہوگئے۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

