پل موج دریا کے قریب جہاں سے سڑک نشتر ہسپتال کی جانب مڑتی ہے اور جہاں اب نشتر جانے کے لئے فلائی اوور بن چکا ہے وہاں سے ایک گلی عرش صدیقی صاحب کے گھر کی جانب جاتی تھی ۔ لالہ زار کالونی میں سفید گیٹ والی کوٹھی کے باہر ’’المنزہ‘‘ لکھا تھا ۔یہ گھر ملتان میں ادبی محفلوں کا مرکز تھا ۔ جو بھی اہم شخصیت ملتان آتی اس کا قیام عرش صاحب کے گھر ہی ہوتا تھا ۔نام ور ادیب شاعر اس زمانے میں اعلیٰ ہوٹلوں کی بجائے دوستوں کے گھروں میں قیام کو ترجیح دیتے تھے ۔عرش صدیقی صاحب کے گھر پر ہماری احمد ندیم قاسمی ، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر سلیم اختر، عارف عبدالمتین سمیت بہت سے نام شعرا کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں ۔صرف ہم ہی نہیں شہر کے بہت سے دیگرقلم کاربھی ایسی شخصیات کی آمد کے موقع پر یہاں جمع ہوتے تھے ۔ خوبی عرش صاحب کی یہ تھی کہ وہ سب کا کھلے بازوؤں اور مسکراتے چہرے کے ساتھ استقبال کرتے تھے ۔ ہم جب بھی ’’المنزہ‘‘ پر دستک دیتے تو ہمیں یقین ہوتا تھا کہ عرش صاحب اگر گھر پر موجود ہوئے توخود دروازہ کھولیں گے ۔اور اگر ان کا کوئی بیٹا بھی دروازہ کھولتا تو ہمیں کبھی یہ نہ کہتا کہ’’ دیکھتا ہوں ابو گھر پر موجود ہیں یا نہیں ‘‘۔ اگر وہ موجود ہوتے تو مسکراتے چہرے کے ساتھ دروازہ کھول دیا جاتاتھا ۔ پھر ہم جیسے نو آموز بھی ان محفلوں کا حصہ بن جاتے ۔
یہ عرش صدیقی صاحب کے ڈرائنگ روم کی تصویر ہے ۔اکتوبر 1984 ء کا زمانہ ہے ۔ شاید اکتوبر کے وسط کی کوئی تاریخ ہو گی ۔ اردو اکادمی نے ان دنوں ملتان میں ’’شامِ افسانہ‘‘ منائی تھی ۔ ڈاکٹر سلیم اختر ، مستنصر حسین تارڑ، اصغر ندیم سید، منصور قیصر سمیت کئی اہم افسانہ نگار اس موقع پر ملتان آئے ۔ڈاکٹر سلیم اختر کا قیام عرش صاحب کے گھر تھا ۔ ان دنوں احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر وزیر آغا کے درمیان محاذ آرائی عروج پر تھی ۔انشائیے کا تنازع بھی ادبی حلقوں میں خوب زیرِ بحث تھا ۔ دونوں جانب سے کالم تحریر کئے جاتے مختلف ادیبوں کے انٹرویوز سنسنی خیز شہ سرخیوں کے ساتھ ادبی صفحات کی زینت بنتے ۔ میں اس زمانے میں روزنامہ ’’نوائے ملتان ‘‘ کا ادبی صفحہ مرتب کرتا تھا ۔ ملتان سے شائع ہونے والے اس اخبار کے ادبی صفحے کی باز گشت پورے ملک میں سنائی دیتی تھی اور اس کے لئے ڈاکٹر سلیم اختر ، ڈاکٹر انور سدید، منیر نیازی ، امجد اسلام امجد ،بشریٰ رحمان ، منصور قیصر جیسی نام ور شخصیات بھی اپنی تحریریں ارسال کرتی تھیں ۔ڈاکٹر سلیم اختر کی ملتان آمد کی خبر سنی تو میں اور شاکر حسین شاکر ان کا انٹرویو کرنے عرش صدیقی صاحب کے گھر پہنچ گئے ۔مجھے یاد ہے کہ اس انٹرویو کے لئے ہم نے ڈاکٹر سلیم اختر سے باضابطہ وقت بھی نہ مانگا تھا کہ وہ بھلا وقت تھا ادیب ، شاعر اور دانش ور آج کی طرح مصنوعی تکلفات کا شکار نہیں ہوئے تھے ۔ان کے ساتھ نوجوان بھی کسی پروٹوکول کے بغیر ملاقات کر لیتے تھے۔
ادیبوں ، شاعروں کو ادبی صفحات میں فلمی ستاروں کی طرح نمایاں کرنے کا عمل بھی اسی زمانے میں شروع ہواتھا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ادبی صفحات نے ادب کی بجائے ادیبوں کو نمایاں کرنا شروع کر دیا ۔ادیبوں کے تنازعات اور چٹخارے دار خبریں ادبی صفحات کی زینت بننے لگیں۔ادیبوں کے انٹرویوز کی اشاعت میں بھی تیزی آگئی ۔یہ انٹرویوپہلے پہل تو ادبی ایڈیشنوں کے انچارج خود کیا کرتے تھے ۔ پھر بعض اخبارات نے ایسے لوگوں کو ادبی ایڈیشنوں کا انچارج بنا دیا جن کا ادب سے بس واجبی سا تعلق تھا اور وہ ادب سے متعلق موضوعات پر مکمل گرفت بھی نہ رکھتے تھے ۔ ایسے لوگوں نے اپنی کوتاہیوں اور کم علمی پر پردہ ڈالنے کے لئے پینل انٹرویوز کی طرح ڈالی ۔ طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ یہ انچارج صاحبان جب کسی کا انٹرویو کرنے جاتے تو اپنی معاونت کے لئے دیگر ادیبوں کو بھی ساتھ لے جاتے ۔انٹرویو کے ساتھ میزبان کے طور پر ایڈیشن انچارج کا نام شائع ہوتا اور دیگر شرکا ئے گفتگو کے نام اور تصاویر بھی ساتھ ہی شائع کر دی جاتیں ۔ہم نے بھی اسی بھیڑ چال میں کچھ پینل انٹرویوز کئے تھے ۔ یہ ایسے ہی ایک انٹرویو کی تصویر ہے ۔ڈاکٹر سلیم اختر کا یہ انٹرویو 23 اکتوبر1984 ء کے روزنامہ نوائے ملتان میں شائع ہوا۔انٹرویو کے ساتھ میزبان کے طور پر ہمارا نام شائع ہوا شرکائے گفتگو میں صلاح الدین حیدر، محمد امین، طاہر تونسوی اور شاکر حسین شاکر شامل تھے ۔ صلاح الدین حیدر اس تصویر میں موجود نہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شائد وہ فوٹو گرافر کے چلے جانے کے بعد وہاں آئے تھے ۔خود صاحبِ خانہ عرش صدیقی بھی اس تصویر میں موجود نہیں کہ وہ صرف اپنے مہمانوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھے۔ انٹرویو کا یہ پینل ہم نے شعوری طور پر ترتیب نہیں دیاتھا ۔میں اور شاکر جب انٹرویو کے لئے عرش صاحب کے گھر پہنچے تو یہ تمام سینئرز وہاں پہلے سے موجود تھے اور میں نے اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے انہیں انٹرویو پینل میں شامل کر لیا کہ وہ میری صحافت کے آغاز کا زمانہ تھا اور تمام تر کود اعتمادی کے بوجود میں سمجھتا کہ میں اور شاکر اتنے بڑے نقاد کا انٹرویو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔
تصویر میں انتہائی دائیں جو سیاہ بالوں والانوجوان ڈاکٹر سلیم اختر کو بغور دیکھ رہا ہے یہ ہمارے اور آپ کے ڈاکٹر محمد امین ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب اس زمانے میں پروفیسر محمد امین کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ ڈاکٹریٹ انہوں نے بعد میں کی ۔ان دنوں امین صاحب گورنمنٹ کالج سول لائنز میں فلسفہ کے استاد تھے ۔ہائیکو کے بانی کی حیثیت سے ان کی شہرت ملک کے طول و عرض میں پھیل چکی تھی ۔ ڈاکٹر امین ان برسوں کے دوران ملتان کے ادبی منظر میں بہت متحرک تھے۔وہ اردو اکادمی کے سیکریٹری کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے تھے ۔ بلا شبہ امین صاحب کی سیکریٹری شپ کے دور میں یہ ادبی تنظیم بہت فعال رہی اور تنقیدی اجلاسوں کے علاوہ بھی اس دور میں اردو اکادمی نے بہت سی یادگار تقریبات کا اہتمام کیا ۔ شامِ افسانہ بھی ایسی ہی تقریبات میں سے ایک تھی ۔ ڈاکٹر امین صاحب کے ساتھ ہمارا محبت بھرا تعلق کالج کے زمانے سے قائم ہے۔ امین صاحب ان چند سینئرز میں سے ہیں جنہوں نے قدم قدم ہمارا حوصلہ بڑھایا ۔ان کی ایک کتاب کا انتساب بھی میرے اور شاکر کے نام ہے جو ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے ۔
ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کسی سوچ میں گم 20 سالہ نوجوان شاکر حسین شاکر ہے ۔شاکر کے ساتھ میری دوستی کے اوائل کا زمانہ تھا ۔ہم اس دور میں بھی تقریبات میں لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے اور آج بھی ایسا ہی ہے ۔اور اگرہم ایک ساتھ کسی تقریب میں نہ شریک ہو سکیں تو ہمیں میزبان یا شرکا کو اس کا معقول جواز پیش کرنا پڑتا ہے ۔
تصویر عین اس لمحے کی ہے جب میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ محوِ گفتگو تھا ۔ڈاکٹر سلیم اختر نے اپنی ملازمت کے اوائل کا زمانہ ملتان میں گزارا۔ ان کے بہت سے شاگرد آج بھی آسمان ادب پر جگمگا رہے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب کی کتاب ’’اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ ‘‘ آج بھی بیسٹ سیلرز میں شمار ہوتی ہے۔اس انٹرویو میں ڈاکٹر صاحب نے قاسمی صاحب اورڈاکٹر وزیر آغاکی محاذ آرائی سمیت مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی ۔ملتان کو اپنا گھر قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ نقاد سے کبھی کوئی خوش نہیں ہوتا ۔
اور ڈاکٹر سلیم اختر کے ساتھ ان کے شاگرد خاص طاہر تونسوی ہیں ۔تونسوی صاحب اس زمانے میں ملتان کے کسی کالج میں تعینات تھے بعد کے دنوں میں وہ کچھ عرصہ زکریا یونیورسٹی سے بھی منسلک رہے مگر ڈاکٹر انوار احمد کی تاب نہ لا سکے ۔پھر وہ بالائی پنجاب چلے گئے ،ریٹائرمنٹ کے بعد فیصل آباد اور سرگودھا میں تدریس کا عمل جاری رکھا ۔پھر دھرتی کا قرض چکانے کے لئے ملتان واپس آگئے ۔دھرتی کی خدمت انہوں نے ملتان سے دور رہ کر بھی جاری رکھی اور وہ اس طرح کہ اکادمی ادبیات سمیت مختلف اداروں کے وفود اور کانفرنسوں میں تونسوی صاحب ملتان میں نہ ہوتے ہوئے بھی ملتان کی نمائندگی کرتے رہے ۔لیکن وہی طاہر تونسوی جب اسی ملتان میں صاحب فراش ہوئے تو ان سے بہت سے فائدے حاصل کرنے والوں نے بھی انہیں تنہا چھوڑ دیا ۔
اور آخری بات یہ کہ تصویر کو ذرا غور سے دیکھئے ڈاکٹر سلیم اختر کے سوا تمام شرکا کی کلائیوں پر گھڑیاں نمایاں ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے بھی گھڑی ضرور باندھی ہو گی مگر تصویر کا زاویہ کچھ ایسا ہے کہ ان کی گھڑی نظر نہیں آ رہی ۔۔ جب سے موبائل فون آئے ہیں اب ان گھڑیوں کی ضرورت ہی ختم ہو گئی ہے ۔1984 ء میں ہم سب نے کلائیوں پر گھڑیاں تو باندھ رکھی تھیں لیکن اس وقت ہم میں سے کسی کو بھی شاید وقت کی رفتار کا اندازہ نہیں تھا ۔

