کالج کے زمانے سے شروع ہونے والی دوستی چالیس سال کے عرصہ پر محیط ہو چکی ہے۔ رضی الدین رضی اور میں نے زندگی کے مفلوک الحال لمحوں سے لے کر آ سودہ حال لمحوں تک ایک طویل سفر تسلسل کے ساتھ گزارا ہے۔ رضی اپنی تخلیقی زندگی کے اوائل سے ہی اپنی شاعری اور نثر کے حوالے سے ایک معتبر حوالے کے طور پر نمایاں ہوا۔” ستارے مل نہیں سکتے “ اس کی ایک شہرہ آفاق نظم ہے جس نے اپنی کیفیت اور بنت کے حوالے سےلوگوں کے دلوں کو مسخر کیا۔ وہ محبت اور مزاحمت کا شاعر ہے۔ مزاحمت اس کے ہاں مصنوعی طور پر نہیں آئی اس نے عملی طور پر زندگی کے ظالمانہ رویوں کو جھیلا ہے اور پھر اس کے خلاف مزاحم ہوا ہے۔ لوگ اسے کھردرا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس کا دل انتہائی گداز ہے۔ میں نے اسے دوستوں کے دکھوں پر آبدیدہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ جب میرا ایکسیڈنٹ ہوا یا پھر میں ایک بار آ پریشن کے مرحلے سے گزرا میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لئے آنسو جھلملاتے دیکھے۔ بعض لوگ رضی کو مذہب بیزار سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ وہ مذہب کے نہیں بلکہ مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے والوں کے خلاف ہے۔۔
اسے ملتان سے بے پناہ محبت ہے ۔ یہی وجہ ہے اس کی شاعری اور نثر میں ملتان دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جتنا اس نے ملتان کے حوالے سے تخلیقی نثر لکھی ہے ۔ شاید ہی کسی اور نے لکھی ہو۔
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

