کراچی : کراچی کے علاقے سائٹ میں انڈسٹریل ایریا میں واقع نجی کمپنی کی جانب سے ملازمین کے اہل خانہ میں زکوٰۃ کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق جبکہ پانچ زخمی ہو گئے۔کیماڑی پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق اور 5 افراد زخمی بھی ہوئے۔
اس سے قبل پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان کو بتایا تھا کہ عباسی شہید ہسپتال میں اب تک نو لاشیں لائی جا چکی ہیں۔ڈاکٹر سمیہ سید نے مزید کہا تھا کہ مرنے والوں میں دو نابالغ بچے اور سات خواتین شامل ہیں۔
کیماڑی کے ایس ایس پی فدا حسین جانوری نے ڈان کو بتایا کہ ایف کے ڈائنگ کمپنی نے اپنے ملازمین کے اہلخانہ کو سائٹ ایریا میں واقع کمپنی کے احاطے میں زکوٰۃ کی تقسیم کے لیے مدعو کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہاں سینکڑوں خواتین آ گئیں اور ایک بڑی بھیڑ کے خوف سے کمپنی کے عملے نے دروازے بند کردیے جبکہ اندر لائن وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ مقامی پولیس کو بھی اس کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ گرمی اور بھگدڑ مچنے سے متعدد خواتین بے ہوش ہوگئیں اور واقعے کی اطلاع ملنے پر سائٹ ایس پی، ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور دیگر کی قیادت میں پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ غفلت کے ارتکاب کے الزام میں کچھ ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے اور خواتین کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔سینئر افسر نے بتایا کہ فرم کے منیجر اور سپروازر سمیت تین ملازمین کو صدقہ کی تقسیم کے دوران مناسب انتظامات نہ کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مبینہ طور پر کمپنی کا مالک موجود نہیں تھا۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 6 خواتین بھی بے ہوش ہوگئی ہیں جنہیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دو خواتین کی لاشیں سول ہسپتال کراچی بھیج دی گئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سیمنز چورنگی میں کمپنی میں بھگدڑ مچنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ راشن کی تقسیم اور فلاحی کاموں کے لیے انتظامیہ کو باقاعدہ اطلاع دینی چاہیے اور 9 افراد کے جاں بحق ہونے کی رپورٹ انتہائی تکلیف دہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کی زخمیوں کو فوری ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ ضلعی انتظامیہ کے ذریعے جاں بحق اور زخمیوں کے کوائف فوری حاصل کیے جائیں، کوائف اکٹھے ہوتے ہی متاثرین میں اعلان کردہ امدادی رقم تقسیم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے جاں بحق ہونے والے افراد کی فیملی کے لیے 5، 5 لاکھ روپے ہر زخمی شخص کے لیے ایک لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔
وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے واقعے کو افسوسناک قرار دیا، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیکٹری انتظامیہ نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو واقعہ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

