کامریڈ جمال الدین بخاری ایک مزدور کانفرنس میں شرکت کیلئے 1945میں احمد آباد گئے تھے تو شانتا نام کی ایک ہندو لیبر ورکر جو خود بھی کمیونسٹ پارٹی میں کام کرتی تھیں، وہ ایک میٹنگ کے دوران اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کہنے لگیں’’ آپ سارا دن مزدوروں کی بات کرتے ہیں میں بھی ایک مزدور ہوں۔ آپ مجھ سے شادی کریں۔‘‘کامریڈ بخاری نے فوراً ہاں کردی۔ سب مزدور حیران رہ گئے۔ شانتا نے باقاعدہ اسلام قبول کیا۔ ان کا مسلم نام زیب النساتجویز کیا گیا۔
کامریڈ جمال الدین بخاری اور کامریڈ زیب النساشانتا نے انگریز سے ہندوستان کی آزادی کے لئے طویل جدو جہد کی۔ جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں۔ نہ جانے کن کن جیلوں میں دن رات کٹے۔ پھر قیام پاکستان کے لئے بھی کمیونسٹ پارٹی نے حمایت کا اعلان کردیا تھا۔ کمیونسٹ تن من دھن سے اس نئی مملکت کے حصول کیلئے بھی سرگرم رہے۔ کامریڈ جمال الدین بخاری سندھ میں ہمیشہ بہت احترام اور عزت سے سیاسی کارکنوں کی تربیت میں مصروف رہے ۔ کارکن کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں، ان سے بہت عقیدت سے ملتے تھے۔
مجھے یہ عظیم ہستی آج کیوں یاد آرہی ہے۔ ان کے صاحبزادے سید مکرّم سلطان بخاری حکومت سندھ کے محکمۂ اطلاعات کے نیک نام افسر رہے ہیں۔ اخباری حلقوں میں ہر دلعزیز۔ انہوں نے ہمت کی اور اپنی زندگی انسانیت کی سر بلندی اور خدمت کے لئے وقف کردینے والے اس کامریڈ کے بارے میں باقاعدہ ایک کتاب شائع کی ہے۔ میں اس کے اوراق سے گزررہا ہوں تو بیسویں صدی کی سیاسی تحریکیں میرے آس پاس طوفان بپا کررہی ہیں۔ میں نے برصغیر کی جدو جہد آزادی کو بہت قریب سے دیکھا۔ ایک طرف میں آج کل کے سیاسی قائدین کی زندگی دیکھ رہا تھا۔ ان کے بیانات سن اور پڑھ رہا تھا۔ دوسری طرف میں مولانا محمد علی جوہر، جمال الدین افغانی، مصطفیٰ کمال اتاترک کے افکار ، قومی تگ و دو، ان کے مکتوبات اور تعلیمات کے اثرات پورے ہندوستان، افغانستان، ایران، وسطی ایشیا پر مرتب ہوتے دیکھ رہا تھا۔ آج کل تو ہوائی جہاز میسر ہیں۔ موٹر ویز بھی۔ سفر تیز تر اور آسان تر ہورہا ہے۔ ان دنوں انقلاب کے شیدائیوں کو یہ مسافتیں پیدل، گھوڑوں، اونٹوں، خچروں اور گدھوں پر طے کرنا پڑتی تھیں۔ پہاڑوں کے پر پیچ راستوں سے گزرنا ہوتا تھا۔کامریڈ جمال الدین بخاری کی جوانی حقیقت کی تلاش میں سینکڑوں ہزاروں میل کے فاصلے طے کرتی گزر رہی ہے۔ انگریز کے زیر تسلط ہندوستان میں دہلی، علی گڑھ، احمد آباد اور جانے کہاں کہاں۔ انقلاب روس کا چرچا دنیا بھر میں ہے۔ کامریڈ پشاور سے انجانی ریاستوں کے سفر پر نکل پڑتے ہیں۔ کابل ، ثمر قند، بخارا، ماسکو اور اجنبی شہروں میں انقلابیوں سے ملاقاتیں۔ ان مسافتوں میں ہی آزادیٔ ہند کی بنیادیں رکھی گئیں۔ پھر اسی تحریک کی کوکھ سے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔
یہ داستان آج کے ہر سیاسی کارکن، ہر نوجوان کو پڑھنا چاہئےجو حقیقی آزادی کی دھن میں اپنے گھر بار چھوڑے جاتے ہیں ۔ تعلیم اور تربیت کے لئے علی گڑھ کی درسگاہ میں پورے برصغیر کے لوگ پہنچتے ہیں۔میں حیرتوں کے بھنور میں ہوں۔ کامریڈ جمال الدین بخاری اور ان کے ہم عصر کتنے سچے اور درد مند لوگ تھے،جنہوں نے ہماری کئی نسلوں کے لئےاپنی عمریں فرنگی جبر و استبداد کے مقابلے کی نذر کردیں۔
یہ صرف ایک شخصیت کی سات دہائیوں کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ان دنوں کے لاکھوں نوجوانوں کے رت جگوں، ریاضتوں اور قربانیوں کی داستانیں ہیں۔ یہ تاریخ عوام کی ہے۔یہ بادشاہوں، مہاراجوں، سلاطین، چوہدریوں اور برہمنوں کی تاریخ نہیں ہے۔ علما اور ان کے شاگردوں کی مصائب آلام سے مقابلے کی رُوداد ہے۔
ایسی قربانیوں اور حقیقی آزادی کے لئے جدو جہد کی کہانیاں واہگہ سے گوادر تک قریہ قریہ گلی گلی موجود ہیں۔ ایک طرف وہ حکمراں طبقے ہیں جنہوں نے اس وقت کی انگریز اسٹیبلشمنٹ کی خدمت گزاری کرکے، ان کی مداخلت میں آلۂ کار بن کے آزادی کا راستہ روکا۔ اور خلعتیں ،جاگیریں پائیں۔ وہ آج بھی آزادی ، عوام کے مینڈیٹ کی راہیں مسدود کررہے ہیں۔ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کا بھرم رکھ رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے ابتدائی ہفتوں میں بھی انہیں کچلے جانے والے عوام کی فلاح کی فکر نہیں تھی بلکہ وہ عوام کے لئے آواز بلند کرنے والوں، آزادی کے خواب دیکھنے والوں کی مخبری کرتے تھے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنواتے تھے۔ آج ان کی اولادیں بھی اپنے ضمیر کا سودا اسی انداز میں کررہی ہیں۔ حق و باطل کی کشمکش جاری ہے۔ مجبور و مقہور انسان اقتدار کے ایوانوں ،حکمرانوں کے محلات اور قلعوں کی طرف نہیں دیکھ رہےبلکہ ان کی نظریں عدالتوں پر لگی ہیں۔ ساری امیدیں اب معزز محترم منصفوں سے وابستہ ہیں۔ تحریک پاکستان کے کارکنوں کی اولادوں کو چاہئے کہ اپنے بزرگوں کی داستانیں عام کریں۔
٭٭٭٭
موسم مرگ کی یورشیں جاری ہیں۔ فیس بک کا بٹن دباتے ہیں تو عظیم ہستیوں کے دنیا سے اٹھ جانے کی اطلاعات آنکھیں نم کردیتی ہیں۔ محبت کے نغمے لکھنے اور عشق کے رنگ بکھیرنے والے امجد اسلام امجد اچانک رخصت ہوگئے۔ نہ جانے کتنی درسگاہیں یاد آئیں۔ کتنی شعری محفلیں۔ ایسے مقبول شاعر کہ وہ اپنی نظم درمیان میں بھول جاتے تو نئی نسل کی سامع طالبات باآوازِ بلند انہیں مصرعے یاد دلارہی ہوتیں۔ پاکستان کو قربتوں اور الفتوں کی ضرورت تھی۔ امجد بہاریں بانٹتے تھے۔ خوشیاں تقسیم کرتے تھے۔ ان کا اپنا لہجہ تھا۔ اپنی تشبیہات۔ اپنے اشعار۔
پرانی صحبتیں یاد آرہی ہیں
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے
ادھر لاہور ویران ہوا۔ ادھر کراچی ضیا محی الدین کی آنکھیں بند ہونے سے سنسان ہوگیا۔ کیا آواز۔ کیا لحن ۔ کیا طرزادا۔ تلفظ۔ اُردو، انگریزی، فارسی سب ان کے لبوں پر آکر والہانہ مچلتی تھیں۔ دنیا بھر میں ہمیں ایک باوقار مقام دلوانے والے۔ ایک وہ میزبان تھے۔ ٹیلی وژن کے کہ تہذیب و تمدن ان کی آنکھوں سے ان کے ہونٹوں پر مچلتا تھے۔ کتنی نسلیں ان سے اقدار کی حرمت کا درس لیتی تھیں۔ انسانیت کا احترام سیکھتی تھیں۔ ہر لمحہ شائستگی، ہر پل ایک قرینہ، ایک سلیقہ۔ چراغ بجھ رہے ہیں۔ آندھی بہت تیز ہے۔چھتیں اُڑ رہی ہیں۔ اندھیرا جارحیت پر اتر آیا ہے۔
روشنی میں بھی تسلسل نہیں اب تو لوگو
اک دیا بجھتا ہے پھر دوسرا جلتا ہی نہیں
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

