لاہور : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے نواز شریف سے ملک واپسی اور انتخابی مہم کی قیادت سنبھالنے کی درخواست کی ہے۔
نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے اتوار کو عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا: ’ہاں یہ سچ ہے کہ پارٹی نے نواز شریف سے پاکستان واپس آنے کی درخواست کی ہے۔‘
نواز شریف کو پاکستان کی ایک احتساب عدالت نے 2018 میں بدعنوانی کے ایک ریفرنس میں قصوروار قرار دے کر 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔سزا کے دوران نومبر 2019 میں صحت کی خرابی کی بنیاد پر انہیں عارضی ضمانت پر رہا اور لندن میں علاج کرانے کی اجازت دی گئی تھی اور اس کے بعد سے وہ ملک واپس نہیں آئے ہیں۔
محمد زبیر نے مزید کہا کہ ’اگلے انتخابات ہمارے لیے یہ ثابت کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں کہ ہم پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہیں اور ہم عمران خان کا سامنا کرنے کو تیار ہیں جنہوں نے غیر ملکی سازش کا نام نہاد بیانیہ پیش کیا ہے۔‘
رواں سال اپریل میں اقتدار سے بے دخل ہونے والے سابق وزیراعظم عمران خان نے واشنگٹن پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی کی تھی۔
محمد زبیر نے اعتراف کیا کہ غیر ملکی سازش کا بیانیہ پاکستان کی متوسط طبقے کی آبادی میں مقبول ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’کسی بھی صورت میں سیاست کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اپنے مخالف کو کبھی کمزور نہ سمجھیں اور ہم چاہتے ہیں کہ بہترین انتخابی ٹیم کی قیادت کی جائے۔‘
عمران خان نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لیے موجودہ اتحادی حکومت کو ایک ماہ کا الٹی میٹم دیا ہے تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات اگلے سال شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے۔نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر نے کہا کہ نواز شریف کی پاکستان واپسی ملک میں عام انتخابات کے شیڈول سے مشروط ہوگی۔
انہوں نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ وہ (نواز شریف) واپس آئیں اور پھر انتخابی مہم کی قیادت کریں۔ ملک بھر میں مہم چلانا آسان کام نہیں ہے۔‘
گذشتہ روز یعنی ہفتے کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ پارٹی نے نواز شریف سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کی قیادت کے لیے پاکستان واپس آئیں۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا تھا کہ حکومت قانون سازی کے ذریعے آئینی ترمیم لانے پر غور کر رہی ہے جس سے نواز شریف پر پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے لگائی گئی تاحیات پابندی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مقامی نیوز چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک ترمیم لائی جانی چاہیے اور تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کے درمیان تقریباً اتفاق رائے ہے کہ اس کی ایک مخصوص وقت کی حد ہونی چاہیے۔‘
2018 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف کو الیکشن لڑنے یا عوامی عہدہ رکھنے کے لیے مستقل طور پر نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے عائد کی گئی تاحیات پابندی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1) (f) کے تحت نااہل قرار دیے گئے قانون ساز اپنی زندگی میں دوبارہ عوامی عہدہ نہیں رکھ سکتے۔نواز شریف کو 2017 میں پاناما پیپرز کے انکشافات سے متعلق اثاثے چھپانے کے الزام میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔
( بشکریہ : انڈپینڈنٹ اردو )
جمعرات, اکتوبر 29, 2026
تازہ خبریں:
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی

