جھٹ پٹا سا خیال کا ہوتا
اور دل جھوم سا رہا ہوتا
راہ چلنے میں اک لہک ہوتی
لڑکھڑانے میں اک مزا ہوتا
کیسی جنت یہیں کہیں کوئی
ایک ویران باغ سا ہوتا
سر پہ اک سائبان ہے وہ بھی
آپ کہتے تو ڈھا دیا ہوتا
لہر میں ہے چراغ دل ورنہ
شام ہی سے بجھا ہوا ہوتا
آپ اپنی گزارتے صاحب
مرنے دیتے جو مر رہا ہوتا
خشک پتے جلا لیے ہوتے
کچھ اندھیرا ہی رونما ہوتا
آن اپنی جگہ مغل زادے
عشق تو ٹوٹ کر کیا ہوتا
اب خدائے سخن تو کیا کوئی
ثانی میرزا رسا ہوتا
( شعری مجموعے” تیرے آنے کا انتظار رہا “ سے انتخاب

