علیل حیدر آبادی پیشے کے لحاظ سے تو ڈاکٹر تھے مگر ان کا مزاج بچپن سے ہی مریضانہ تھا۔جب وہ پیدا ہوئے تو کئی روز تک گھر والے اس شش وپنج کا شکار رہے کہ بچے کی پیدائش کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کرنی چاہیے یا نہیں؟ وجہ اس کی یہ تھی کہ ڈاکٹروں نے بچے کی ڈوبتی نبضیں دیکھ کر والدین سے کہہ دیا تھا کہ یہ بچہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہے گا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک تو ان کے والدین نے کسی کا منہ میٹھا نہ کرایا اور دوسرے بچے کو حفاظتی ٹیکے بھی نہ لگوائے، ان کا خیال یہ تھا کہ بچے نے اگر بچنا ہی نہیں تھا تو حفاظتی ٹیکے چہ معنی۔ علیل حیدر آبادی نے پیدائش کے 10 روز بعد بمشکل تمام آنکھیں کھولیں اور ایسی کھولیں کہ پھر عمر عزیز کی 80 بہاریں بھی دیکھیں یہ الگ بات کہ ان 80 برسوں میں سے ان کے 40 برس علالت اور باقی عمر بیماری کے خدشے میں گزر گئی۔ بچپن میں تو کھانسی،نزلہ اور زکام ہی ان کے لئے کافی ہوتا تھا سردیوں میں وہ ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے بیمار ہوتے تو گرمیوں میں انہیں لو لگتی تھی۔ کئی بار تو یہ ہوا کہ سانس اکھڑ گئی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ گھر والے ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے لگے اور اسی چیخ و پکار کے دوران علیل حیدر آبادی اپنی آنکھیں کھولتے حیرت اور قدرے ناگواری کے ساتھ اہل خانہ کو دیکھتے اور پھر پوچھتے کہ کیوں شور مچا رہے ہیں؟ آپ کو معلوم نہیں کہ میں بیمار ہوں۔ رونے والے اپنے آنسو صاف کرتے، ماں بہنیں علیل صاحب کی بلائیں لیتیں۔ ان کے سر سے مرچیں وار کر جلائی جاتیں اور ہرمل کی دھونی دی جاتی۔ اگلے ہی روز وہ بھلے چنگے ہو جاتے۔ بس اسی شور شرابے میں انہوں نے تعلیم حاصل کی اور اپنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہ شاید دنیا کے پہلے اور آخری ڈاکٹر تھے جنہوں نے لوگوں کیلئے نہیں اپنے علاج کے لئے یہ پیشہ اختیار کیا۔ ڈاکٹر بن جانے کے بعد علیل حیدر آبادی کو احساس ہوا کہ وہ زیادہ بیمار ہو گئے ہیں۔ پہلے تو انہیں بیماریوں کا علم ہی نہیں تھا اس لئے بچت ہو جاتی تھی۔ اب تو انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ ان کا پتا خراب ہے۔ جگر میں سوزش، پھیپھڑوں میں پانی اور دل میں سوراخ ہے، گردہ ایک ہے اور اس میں بھی پتھری ہے، آنکھوں میں ککرے، کانوں میں فنگس اور دانتوں میں ماس خورہ ہے اور آنتیں سکڑ چکیں اور تلی بڑھ گئی ہے۔
غرض کیا کہیں تم سے کہ وہ بستر نشیں کیا تھا کوئی ایک بیماری ہوتی تو اس کا علاج بھی کیا جاتا۔ علیل حیدر آبادی ڈاکٹر کیا بنے انہیں ہر لحظہ موت کا دھڑکا سا رہنے لگا۔ صبح بلڈ پریشر کی گولی کھاتے تو دوپہر کو دل کے معاملات درست رکھنے کا جتن کرتے۔ شام کو معدے کی جلن پریشان کرتی تو رات کو ہاضمے کی گولیوں کی ضرورت پیش آجاتی۔ اتنی بہت سی پریشانیاں اتنی بہت سی بیماریاں کہ راتوں کی نیند اڑ گئی۔ خواب آور گولیاں بھی اثر کرنا چھوڑ گئیں۔ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر علیل حیدر آبادی نفسیاتی مریض بھی بن چکے ہیں۔ ہاتھ دھورہے ہیں تو دھوتے چلے جارہے ہیں کھانا کھانے بیٹھے ہیں تو کھائے چلے جارہے ہیں۔ واک پر نکلتے تو اس وقت تک واپس نہ آتے جب تک ٹخنہ نہ نکل جاتا۔ وہ کلاس روم میں بلیک بورڈ کے سامنے اتنا عرصہ نہ بیٹھتے تھے جتنا وقت انہوں نے میڈیکل بورڈ کے سامنے گزار دیا۔ ایک ڈاکٹر کے علاج کے لئے کئی کئی ڈاکٹر سرجوڑ کر بیٹھتے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات نکلتا۔ بچپن سے بڑھاپے تک انہیں مسئلہ صرف ایک ہی درپیش رہا کہ نہ وہ ٹھیک ہوتے اور نہ ہی فوت ہوتے تھے۔ ایم بی بی ایس ہونے کے باوجود انہوں نے دنیا کا ہرعلاج کرایا۔ طب یونانی سے لے کر ہومیو پیتھک اور آکو پنکچر تک تمام طریقہ ہائے علاج ناکام ہو گئے۔ پھر کسی نے بتایا کہ آپ پر کسی نے کالا جادو کر دیا ہے۔ علیل حیدر آبادی کو یاد آیا کہ واقعی ایک روز ان کے صحن میں خون کے چھینٹے دکھائی دئے تھے اور وہ یہی سمجھتے رہے کہ ان کی نکسیر پھوٹی ہے۔ کالے جادو کے توڑ کے لئے ایک کالا بکرا عامل کے حوالے کیا گیا،بعد میں عامل نے بتایا کہ اس بکرے کے پھیپھڑوں میں پانی، دل میں سوراخ تھا۔ تلی بڑھی ہوئی حتیٰ کہ ایک کھر بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر علیل حیدر آبادی کو اب یقین ہو گیا کہ واقعی ان پر کسی نے کالا جادو کیا تھا ورنہ جو بیماریاں انہیں لاحق تھیں وہ بھلا صدقے کے بکرے کو کیسی ہوسکتی تھیں۔عامل نے کالے جادو کا توڑ کر دیا زندگی میں پہلی بار ڈاکٹر علیل حیدر آبادی کو احساس ہوا کہ وہ صحت یاب ہو گئے ہیں۔ اب انہیں نظر ٹھیک آرہا تھا،دل کی دھڑکنیں قابو میں تھیں،ہاضمہ ٹھیک تھا اور گردے کا درد بھی ختم ہو گیا تھا۔تو گویا میں نے زندگی کے 80 سال بلاوجہ ادھر ادھر دھکے کھاتے گزار دئیے۔ کالے جادو کا پہلے پتا چل جاتا تو اتنی اذیتیں تو نہ برداشت کرنا پڑتیں۔ علیل حیدر آبادی اب قطعاً علیل نہیں تھے اس روز انہیں خواب آور گولیوں کی بھی ضرورت نہ پیش آئی۔فوراً نیند آگئی اس رات وہ بہت مطمئن ہو کر سوئے اور صبح گھر والوں کو معلوم ہوا کہ وہ بیماریوں سے ہی نہیں زندگی سے بھی نجات پاچکے ہیں۔
بشکریہ : روزنامہ پاکستان )

