لاہور : نامور افسانہ نگار کالم نگار اور صحافی مسعود اشعر سوموار کے روز حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے ۔ان کی عمر 91 برس تھی ۔ مسعود اشعر کا اصل نام مسعود احمد خان تھا وہ دس فروری 1931 کو رام پور میں پیدا ہوئے ۔
قیام پاکستان کے بعد لاہور اور ملتا ن میں قیام پذیر رہے اور روزنامہ احسان، زمیندار، آثار اور امروز سے وابستہ رہے۔مسعود اشعر کئی برس تک روزنامہ امروز ملتان کے اقامتی ایڈیٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے انہوں نے آزادی صحافت کے لئے متعدد آمریتوں میں بہادرانہ جدوجہد کی۔مسعود اشعر کے افسانوں کے مجموعے آنکھوں پر دونوں ہاتھ، سارے افسانے اور اپنا گھرکے نام سے شائع ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2009 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔وہ ایک طویل عرصے سے لاہور میں قیام پذیر تھے اور معروف علمی ادارے مشعل بکس کے سربراہ تھے۔ وہ روزنامہ جنگ اور روزنامہ دنیا میں ہفتہ وار کالم بھی لکھتے تھے۔ مسعود اشعر کی نماز جنازہ کل صبح 10 بجے بی بلاک ڈی ایچ اے لاہور میں ادا کی جائے گی۔ مسعود اشعر کو ان کی ادبی خدمات پر 2015ء میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

