ملتان : سینئر شاعر حمید عاکف منگل کے روز حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے ان کی عمر 54 برس تھی اور وہ چند روزسے سینے کی تکلیف کا شکار تھے ۔ حمید عاکف نے 1980 ء کے عشرے میں اپنے شعری سفر کا آغاز کیا اور جلد اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرا لیا ۔ حمید عاکف نے معروف شاعر اور ماہر قانون ممتاز العیشی کی شاگردی اختیار کی اور ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے طرحی مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگے ۔
وسیم ممتاز ، سلیم قیصر ، مرتضیٰ اشعر ، شفیق آصف بھی ان مشاعروں میں شریک ہوتے تھے ۔ حمید عاکف ایک قادرالکلام شاعر تھے ان سے ملتان کے بہت سے نوجوان شاعروں نے استفادہ کیا نئی نسل کے شعراء رمزی آثم اور نوید سیمان کا شمار ان کے شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ حمید عاکف کو منگل کی سہ پہر ملتان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ اور چار بیٹے شامل ہیں ۔ دریں اثنا ان کے دوستوں سمیت مختلف شعراء اور ادبی حلقوں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔
جمعرات, اکتوبر 29, 2026
تازہ خبریں:
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی

