لاہور : سینیئر صحافی اور معروف کالم نگار عبدالقادر حسن طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ان کی عمر 89 برس تھی ۔ علالت کے باوجود وہ کبھی تسلسل اور کبھی وقفوں سے کالم لکھتے رہے ۔
عبدالقادر حسن نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز بطور سیاسی رپورٹر کیا ۔ان کی روزنامہ نوائے وقت سے طویل وابستگی رہی ۔ ان کا شمار اپنے دور کے بہترین سیاسی رپورٹرز میں ہوتا تھا۔ رپورٹنگ کے بعد عبدالقادر حسن نے غیر سیاسی باتیں کے عنوان سے کالم نگاری کا آغاز کیا، جسے سیاسی و عوامی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی ملی۔
وہ روزنامہ امروز کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ عبدالقادر حسن 2006ء سے روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ تھے ، ان کا آخری کالم دو روز قبل ایکسپریس میں ہی شائع ہوا۔ان کے اپنے دور کے معروف سیاستدانوں نوابزادہ نصر اللہ، میاں محمود قصوری اور میاں معراج خالد سے گہرے تعلقات تھے جبکہ ذوالفقار علی بھٹو شہید سے بھی اچھے مراسم تھے۔ عبدالقادر حسن کی نماز جنازہ منگل کی صبح نو بجے ڈیفنس کی مقامی مسجد میں ادا کی جائے گی۔
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

