میانوالی: معروف لوک گلوکار شفاء اللہ خان روکھڑی ہفتہ کے روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ۔
شفااللہ خان روکھڑی کے بیٹے عمران روکھڑی نے تصدیق کی ہے کہ شفااللہ خان روکھڑی کا انتقال اسلام آباد میں ہوا ہے ۔انہیں اچانک دل کا دورہ پڑا جنہیں علاج کے لیے اسلام آباد لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔ ان کی میت اسلام آباد سے واپس میانوالی کیلئے روانہ کر دی گئی ۔ شفاءاللہ خان روکھڑی نیازی کا تعلق نیازی قبیلہ سے تھا اور وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔گلوکاری سے قبل شفاءاللہ خان روکھڑی پنجاب پولیس میں ملازمت کرتے تھے اور انہیں گانا گانے کا شوق بہت زیادہ تھا۔اسی شوق کو پورا کرنے کے لیے شفاءاللہ خان روکھڑی نے پولیس کی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا اور موسیقی کے میدان میں قدم رکھ دیا،دس سال تک گلوکاری میں محنت کرتے رہے اور 1995 میں اپنا پہلا البم ریلیز کیا جو انہیں کامیابی کی بلندیوں تک لے گیا۔
شفاءاللہ خان روکھڑی اور ان کے صاحبزادے ذیشان خان روکھڑی نے موسیقی میں اپنا نام پیدا کیا اور سوشل میڈیا پر ان کے سبسکرائیبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ شفاء اللہ خان روکھڑی نے سرائیکی فوک کو دنیا بھرمیں متعارف کروایا اور ان کے اسی انداز گائیگی کی بدولت دنیا بھرمیں ان کے پرستاروں کی تعداد موجود ہے جن میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہاہے۔
شفاء اللہ روکھڑی نے سرائیکی گائیکی میں جدت پیداکی جسے دیکھتے ہوئے بہت سارے گلوکاروں نے ان کے انداز کو کاپی کیا اور اپنا نام بنایاان کا گایا ہوا گانا "پردیسی ڈھولا” چنگا ساڈا یار ایں توں” ، ”اج کالا جوڑا پا“ ، ’’کوئی روہی یاد کریندی ہے سانول ول آ توں‘‘ سمیت بے شمار سرائیکی گیت گا کر دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی۔
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی

