Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
  • اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
  • ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
  • نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
  • خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
  • عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
  • زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
  • الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » عاصمہ شیرازی کا کالم: 2020 کی لاپتہ عید
لکھاری

عاصمہ شیرازی کا کالم: 2020 کی لاپتہ عید

ایڈیٹرمئی 26, 20202 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Asma-Sherazi
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

غم کیا ہے، کسی غمزدہ آنکھ سے پوچھیے۔ موت کے رقص میں زندگی کے معنی کیا ہیں، خوف سے پوچھیے۔ سانس سے وابستہ آس کیا ہے، اُمید سے پوچھیے۔ گذشتہ جمعے کو آس، اُمید، زندگی سب ہار گئے۔۔۔ جیتا تو فقط خوف۔
کورونا کے خوف کے سائے میں عید پہلے ہی کچھ خاص پر لطف نہ تھی اور پھر جہاز کے حادثے نے تو گویا تمام رنگ ہی چھین لیے۔
عید بھی آئی تو کیسی آئی۔ عید دراصل خوشی کا وہ دن ہے جس دن اپنوں سے ملاقات ہوتی ہے، بچھڑے آ گلے ملتے ہیں، ناراض ناراضگیاں مٹا دیتے ہیں۔ گلے شکوے بھلا کر، تلخیوں کو فراموش کر کے شیریں لہجوں سے محبتوں کی شیرینی بانٹی جاتی ہے۔
پی آئی اے کی بدقسمت فلائٹ میں سوار 99 افراد جن میں سے 97 لقمہ اجل ہوئے جانے کیا کیا خواب لے کر جہاز پر سوار ہوئے۔
ایک بیٹی باپ سے ملنے کے لیے آئی واپس لیکن گھر نہیں پہنچ پائی۔ کسی نے سوچا ہوگا گھر پہنچتے ہی بچوں کو گلے سے لگائیں گے، کوئی ماں سے ملنے کا منتظر اور کوئی بچوں کے ساتھ عید منانے کا خواہش مند۔
انصار نقوی چار ماہ بعد گھر کے لئے روانہ ہوئے۔ دفتر سے جاتے ہوئے کہہ کر گئے کہ بچے منتظر ہیں، بیگم سے کہا ہے کہ افطار اکٹھے کریں گے۔ شیر دل کھو گئے، زارا عابد کئی سپنے لیے خاک میں مل گئیں۔ یہ 97 نہیں 97 لوگوں سے جڑے سینکڑوں خوابوں کا غم ہے جو تعبیر نہ پا سکے۔
ہمارے بھائیوں جیسے سینیئر صحافی انصار نقوی کا خاندان بھی اُن کی راہ تک رہا تھا۔ غم سے نڈھال اُن کے اور اُن کے ساتھ جاں بحق ہونے والے کئی افراد کے لواحقین آج بھی ان کے منتظر ہیں۔
جن کے عزیز بچھڑ گئے، اُن کے غم کا مداوا کوئی نہیں کر سکتا۔ سوختہ جانوں کے نشان ڈھونڈنے والے خاک سے ہی سوال کر رہے ہیں کہ پل ہی پل میں کیا ہو گیا۔ جہاز کے کپتان سے لے کر عملے اور پھر مسافروں اور اُن کے خاندانوں کی عید خاک میں مل گئی۔ آہیں ہیں، سسکیاں ہیں اور آنسو۔۔۔ کون کب تک مداوا کرے گا۔
میں مٹی میں ملے لوگوں کے وجود ڈھونڈنے والوں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ ان کو تو قرار آ جائے گا مگر وہ لاپتہ افراد جن کی نہ تو زندگی کی خبر ہے نہ موت کی۔۔۔ ان کے منتظر خاندان عیدیں کیسے مناتے ہوں گے؟
سُنا ہے بلوچستان کے گمشدہ لوگ کئی عیدیں پریس کلبوں کے باہر منا چکے ہیں۔ جوان بیٹوں، جوان بھائیوں اور شوہروں کے ناموں کے کتبے اٹھائے یہ لوگ ایک عید کے منتظر ہیں، ایک دید کے منتظر ہیں۔
وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز گزشتہ کئی سالوں سے دونوں عیدوں پر احتجاجی کیمپ آباد کرتا ہے۔ اپنوں کی بازیابی کے لئے احتجاج کیا جاتا ہے اور احساس دلانے کی کوشش کہ عید کے دن اگر آپ کے اپنے پاس نہ ہوں تو آپ کی عید کیا ہو گی۔
آصفہ قمبرآنی اپنے ایک گمشدہ بھائی کی لاش وصول کرنے کے بعد دوسرے لاپتہ بھائی کے لئے کیمپ میں کھڑی ہے۔ ماما قدیر بلوچ آج بھی سراپا احتجاج ہیں۔ آمنہ مسعود جنجوعہ کے زخموں پر آج بھی کسی نے مرہم نہیں رکھا۔ انسانی حقوق کے سرگرم رکن ادریس خٹک کی بیٹی طالیہ کی اپنے والد کی بازیابی کی اپیل پر شاید ہی کوئی پتھر دل نہ پسیجا ہو۔
وائس آف بلوچ مِسنگ پرسنز کی رپورٹس ہزاروں کے اعداد و شمار دیتی ہیں، جنہیں غلط بھی مان لیا جائے تو سینکڑوں لاپتہ افراد سے وابستہ لواحقین کے گھروں میں عید کے دن خاموش لبوں پر حرف دعا کیا ہوتا ہو گا؟
مقتدر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ خدانخواستہ ایک دن کے لئے اُن کا رابطہ اپنے بچوں اور گھر والوں سے منقطع ہو جائے اور ان کے پیارے کھو جائیں تو ان پر کیا گزرے گی؟ خدا نہ کرے کہ آپ کو اپنوں کا غم ملے، خدا نہ کرے کہ آپ کے بچے، بھائی، اہل خانہ آپ کی آنکھوں سے دور ہوں۔۔۔
زندہ معاشروں میں زندوں کو دفن نہیں کیا جاتا۔ ریاستیں مردہ لاشوں پر قائم نہیں رہتیں قبرستان بن جاتی ہیں۔ ریاست ماں ہے تو اس عید پر وعدہ کرے کہ لاپتہ اگر مجرم ہیں تو اُنہیں کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے اور اگر نہیں تو اُنہیں زندوں میں شمار کیا جائے۔
فیصلہ کرنے میں دیر نہ کریں کیونکہ ریاست کی لاپتہ عید دھرتی زادوں کی دید میں ہی ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسید مجاہد علی کا تجزیہ۔۔کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں فرسودہ اور ناکارہ ہوچکی ہیں
Next Article کچھ مذہب اور الحاد کے بارے میں ۔۔ مبشر علی زیدی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم

اکتوبر 30, 2026

ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی

اکتوبر 29, 2026

اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟

اکتوبر 29, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم اکتوبر 30, 2026
  • ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی اکتوبر 29, 2026
  • اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟ اکتوبر 29, 2026
  • ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم اکتوبر 28, 2026
  • 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری اکتوبر 28, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.