اسلام آباد : پاکستان میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 100 ہو گئی ہے جب کہ لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ کی جانب سے لاک ڈاؤن مزید دو ہفتے برقرار رکھنے کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ 30 اپریل تک توسیع کی حتمی منظوری قومی رابطہ کمیٹی دے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران کابینہ کی جانب سے ای سی سی، قومی رابطہ کمیٹی سمیت لیجسلیٹیو کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کر دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر کا کنٹرول وائلڈ لائف کے سپرد کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق احساس ایمرجنسی پروگرام کے ایجنٹس کے کمیشن پرایڈوانس انکم ٹیکس کی چھوٹ کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ای او بی آئی پی پینشنرز میں اضافے کا معاملہ مؤخر کردیا گیا ہے ۔
اس وقت پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 5812 ہے جبکہ 2856 متاثرین کے ساتھ پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔
ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 101 ہے جبکہ 1386 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
ہلاک شدگان میں سے 35 کا تعلق خیبر پختونخوا، 35 کا سندھ، 24 کا پنجاب، تین کا گلگت بلتستان اور دو کا بلوچستان سے ہے جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں دو اموات ہوئی ہیں۔
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

