Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, ستمبر 13, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
  • رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
  • کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
  • پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
  • حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
  • پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
  • موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
  • مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
  • پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » ایم کیو ایم (پاکستان) کی اصل مشکل۔۔مظہر عباس
لکھاری

ایم کیو ایم (پاکستان) کی اصل مشکل۔۔مظہر عباس

ایڈیٹرجنوری 25, 20201 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اگر میں کسی دو سیاسی جماعتوں پر پی ایچ ڈی کر سکتا ہوں تو وہ پی پی پی اور ایم کیو ایم ہیں۔ دونوں کے عروج و زوال کے بےشمار حقائق کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا ہے۔ ایم کیو ایم کی موجودہ شکل اُس سے بہت مختلف ہے جو 22اگست 2016سے پہلے والی متحدہ قومی موومنٹ کی تھی مگر اپنے مکمل ’سرنڈر‘ کے باوجود انہیں اب بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور دوسری بات اس کی قیادت کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کیا ایسے میں خالد مقبول صدیقی اور عامر خان اس سال کے آخر میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی، پی پی پی اور جماعت اسلامی کے مقابلے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر پائیں گے، یہ ان کی اصل مشکل ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم (پاکستان) میں ایک واحد قدر مشترک پی پی پی مخالف ہونا ہے وگرنہ 2018کے الیکشن میں تو ایم کیو ایم کا صفایا پی ٹی آئی نے کیا یا اس سے کروایا گیا۔ ایم کیو ایم 18سے 6اور پی ٹی آئی ایک سے14نشستوں پرچلی گئی۔ پچھلے 14ماہ میں دونوں جماعتوں کو اتحادی ہونے کے باوجود سندھ کے شہری علاقوں میں مشکل کا سامنا ہے۔ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان جاری رسہ کشی کی وجہ سےو زیر اعظم عمران خان اور سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے درمیان مشکل سے دو ملاقاتیں ہوئی ہیں جس کے اثرات محسوس کئے جا سکتے ہیں۔
ایم کیو ایم (پاکستان) کا وجود جس صورتحال میں سامنے آیا اس سے شاید وہ اب تک باہر نہیں آ سکی اور رہی سہی کسر ڈاکٹر فاروق ستار کی صورت میں پی آئی بی گروپ نے پوری کردی ۔ دوسری طرف پاک سرزمین پارٹی نے سابق میئر مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی قیادت میں 2018میں ناکامی کے باوجود اپنے گروپ کو متحرک رکھا ہوا ہے۔ پھر ایک وہ گروپ ہے جو تمام تر غیر علانیہ پابندی کے باوجود اپنا ایک وجود رکھتا ہے جو ووٹر پر اب بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے،لہٰذا ایم کیو ایم (پاکستان) کو ایک انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے اور وہ وزیراعظم عمران سے چاہتے ہیں کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے اداروں کے ذریعہ ان کے سیکٹر اور یونٹ کے دفاتر کھلوانے میں کردار ادا کریں۔ اس سے پہلے وزیراعظم کو اس حوالے سے رینجرز سندھ اور طاقتور اداروں کی طرف سے تحفظات کاسامنا کرنا پڑا۔ ایسی ہی گم شدہ کارکنوں کے حوالے سے مخالفت سامنے آئی۔ ایم کیو ایم کے کئی سوکارکنوں کو آج بھی ایسے مقدمات کا سامنا ہے جو بھٹو صاحب کے دور کی بھینس چوری کی یاددلاتے ہیں۔ مثلاً قائد کی تقریر سننا اور تالیاں بجانا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مقدمات 2016سے قائم ہیں۔ ان تمام معاملات پر وزیراعظم بےبس نظر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایم کیو ایم (پاکستان) اس پوزیشن میں بھی نہیں کہ وہ اپنے ہی نامزد سینیٹر اور وزیر قانون جناب فروغ نسیم سے استعفیٰ لے سکے۔ وہ پارٹی کے امیدوار نہ ہونے کے باوجود سینیٹر بھی بن گئے اور وزیر بھی ۔ پاکستان کے سیاسی نظام میں ہر انہونی ممکن ہے۔
ایسے میں خالد مقبول صدیقی یا عامر خان کیسے خودمختار فیصلے کر سکتے ہیں سوائے اس کے جو انہوں نے اب تک کیا۔ ایم کیو ایم ( پاکستان) اور اس کے زیر اثر بلدیاتی اداروں کے پاس چندماہ ہی باقی ہیں۔ اگر وفاقی حکومت بڑے بڑے پروجیکٹ پرکام تیزی سے شروع کروا دیتی ہے تو شاید پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم مشترکہ طور پر الیکشن لڑ کر بہتر نتائج دے پائیں ورنہ انہیں مشکل کا سامنا رہے گا۔2013کے الیکشن کے بعد پہلی بار پی پی پی کی قیادت نے ترقیاتی کاموں کا ’’ شریف ماڈل‘‘ کراچی میں اپنایا ہے مگر اس کے لیے انہیں سندھ لوکل گورنمنٹ 2001کے ایکٹ میں ترمیم کرکے میئر اور چیئرمین کے اختیارات کو محدود کرنا پڑا اور جو کام بلدیہ کے ہوتے ہیں وہ صوبائی حکومت کے پاس آگئے۔ وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ یہ اختیارات واپس بلدیاتی اداروں کے پاس جائیں۔
دوسری طرف پی ٹی آئی شہری سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود نہ سیاسی کام کرپائی اور نہ ہی انتظامی۔ فروغ نسیم صاحب نے کوشش ضرور کی کہ کراچی وفاق کنٹرول کرے مگر گورنر راج کے بغیر ایسی تمام تجاویز بیانات سے آگے نہیں جا سکیں کیونکہ خدشہ تھا کہ اس سے اصل سیاسی فائدہ پی پی پی کو ہوگا۔
خود پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات بھی خراب ہیں۔ تنظیمی طور پر تین یا چار گروپ میں تقسیم پارٹی2018کے الیکشن کے بعد سے شہر میں متحرک نظر نہیں آئی۔ حال ہی میں پارٹی کے 6یا 7ایم این اے نے وزیراعظم کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ حیرت ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو خود کراچی سے بھی منتخب ہوئے تھے، پارٹی کی اتنی بڑی کامیابی کے باوجود شہر جب بھی آتے ہیں (ویسے وہ کبھی کبھی ہی آتے ہیں) تو کراچی کے ’’ریڈ زون‘‘ سے باہر ہی نہیں آتے۔ جس شہر نے پہلی بار ایک ایسی جماعت کو ووٹ دیا جس نے مرکز میں حکومت بنائی مگر اس نے بھی کراچی کو لاوارث چھوڑ دیا۔کراچی اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا شیلٹر ہوم بن گیا ہے جہاں سب پناہ لے سکتے ہیں مگر خود کھائو اور کمائو کی صورت میں۔ اب اگر ایسا شہر جو معاشی حب کہلائے، منی پاکستان ہو، ہرنسل و زبان بولنے والوں کو خوش آمدید کہے مگر جس کی آدھی آبادی کچی آبادیوں میں رہے، پانی خرید کر پیا جائے، ہر جگہ کسی مافیا کا راج ہو وہاں کیا سیاست باقی رہے گی۔ بس جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اب تویہ شہر اپوزیشن کا شہر بھی نہیں رہا، پھر بھی کوئی کچھ نہیں کرتا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleولسن نکات اور رسل ٹریبونل سے گلوبل ڈیموکریٹک ڈائیلاگ تک۔۔ وجاہت مسعود
Next Article محبت نامہ برائے فردوس عاشق۔۔سہیل وڑائچ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم

ستمبر 13, 2026

رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ

ستمبر 12, 2026

کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی

ستمبر 12, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم ستمبر 13, 2026
  • رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ ستمبر 12, 2026
  • کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی ستمبر 12, 2026
  • پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟ ستمبر 12, 2026
  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم ستمبر 10, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.