نامور شاعر ،ادیب،دانشور اورسابق ڈائریکٹرجنرل تعلقات عامہ پنجاب سید فخرالدین بلے کی برسی آج منائی جارہی ہے ۔فخرالدین بلے کاشمار ان شخصیات میں ہوتاہے جنہوں نے شعر وادب اور فنون لطیفہ کے فروغ کے لئے گراں قدرخدمات سرانجام دیں۔وہ ملتان اوربہاولپورمیں آرٹس کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ملتان آرٹس کونسل میں 1982میں فخرالدین بلے نے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے 25روزہ جشن تمثیل منعقد کیا ، جو اب تک سٹیج ڈراموں کاسب سے بڑا میلہ ہے۔اس جشن تمثیل کے نتیجے میں سہیل اصغر ،زاہدسلیم ،محسن گیلانی جیسے فنکار متعارف ہوئے جنہوں نے بعدازاں ملک گیر شہرت حاصل کی ۔فخرالدین بلے 15دسمبر1930ءکو میرٹھ میں پیداہوئے۔انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم ایس سی کی ۔فخرالدین بلے نے تحریک پاکستان میں بھی بھرپورحصہ لیا۔علی گڑھ میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔فخرالدین بلے اطلاعات ،تعلقات عامہ ،سیاحت ،آرٹس کونسل ،سوشل ویلفیئر ،وزارت مذہبی امور اورسمندرپارپاکستانیوں کی وزارت میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ادیبوں ،شاعروں اوردانشوروں کی سرگرمیوں کے لئے قافلہ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس کے پڑاﺅ لاہور ،ملتان اوربہاولپورمیں ہوتے رہے ۔انہوں نے مختلف سرکاری اورغیرسرکاری جرائد کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیئے جن میں ماہنامہ جھلک،روزنامہ نوروز کراچی ،بہاولپورریویو،ماہنامہ اوقاف ،ہم وطن ،یاران وطن،نوائے بلدیات ،لاہورافیئر ،15روزہ مسلم لیگ نیوز اورہمارا ملتان قابل ذکرہیں ۔وہ 28جنوری 2004ءکو دل کادورہ پڑنے سے ملتان میں انتقال کرگئے ۔
بدھ, اگست 12, 2026
تازہ خبریں:
- بلوچستان کے ضلع سوراب میں 15 اکست تک رات کا کرفیو : قلات اور خضدار میں پابندیاں
- نئے صوبے کی باتیں :امر جلیل کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ: توقعات اور حقائق : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان وقت کی ضرورت ہے؟ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا کالم
- ’ مجتبیٰ خامنہ ای جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند‘ ہیں: ایرانی صدر کا سات گھنٹے طویل ملاقات کے بعد دعویٰ
- جشن آزادی پر سکیورٹی : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل سروس بند
- مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم
- وزیر داخلہ کا بیان اور ہمارا گلا سڑا نظام : مہتاب حیدر تھہیم کا تجزیہ
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ

