راولپنڈی: پی ٹی آئی رہنماؤں شہریار آفریدی اور سینیٹر علی محمد خان کو کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔
شہریار آفریدی 3 ایم پی او کے تحت گرفتار ہونے کے بعد ڈی سی اسلام آباد کے احکامات پر 15 دن سے سینٹرل جیل اڈیالہ میں نظربند تھے اور 15 روز کی اسیری مکمل کرنے پر انہیں آج رہا کیا گیا، تاہم جیل سے باہر آتے ہی راولپنڈی پولیس نے شہریار آفریدی کو 3 ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا۔
تحریک انصاف کے رہنما کی ایک بار پھر گرفتار ڈی سی راولپنڈی کی جانب سے 3 ایم پی او مزید 15 دن کی نظربندی کے احکامات کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، جس کے مطابق پولیس نے انہیں اڈیالہ جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔
بعد ازاں شہریار آفریدی کو راولپنڈی پولیس نے ڈی سی راولپنڈی کی جانب سے 3 ایم پی او کے تحت 15 دن کی نظر بندی احکامات کے ساتھ سینٹرل جیل اڈیالہ منتقل کردیا۔ پولیس کے مطابق احکامات ملنے پر شہریار آفریدی کو وصول کرکے دوبارہ اڈیالہ جیل میں نظر بند کیا گیا ہے۔
شہریار آفریدی کو راولپنڈی پولیس نے ڈی سی راولپنڈی کی جانب سے 3 ایم پی او کے تحت 15 دن کی نظر بندی احکامات کے ساتھ سینٹرل جیل اڈیالہ منتقل کیا
احکامات ملنے پر شہریار آفریدی کو وصول کرکے دوبارہ نظر بند کردیا ۔۔ حکام۔۔
بعد ازاں سینیٹر علی محمد خان کو ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے احکامات ختم ہونے کے بعد اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تو انہیں خیبرپختونخوا پولیس نے جیل کے باہر سے حراست میں لے لیا۔ علی محمد خان کو تیسری بار رہائی کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
بدھ, اکتوبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

