راولپنڈی:بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ظہیر بلوچ کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا، رہائی پاتے ہی انہوں نے بقیہ 34 بلوچ طلبہ و مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔
اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر ظہیر بلوچ نے کہا کہ اب بھی 34 مظاہرین جیل میں ہیں جن میں سے اکثریت طلبہ کی ہے۔
انہوں نے جیل میں قید طلبہ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات سے امتحانات ہیں، جیل میں قید طلبہ کو رہا نہ کیا گیا تو ان کا سمسٹر اور تعلیم متاثر ہو گی، گرفتار طلبہ اور مظاہرین کو فوری رہا کیا جائے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن تمام افراد کو رہا کیا جائے۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی

