اسلام آباد: ملک میں کھاد بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ناجائز منافع خوری کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومتی سبسڈی کا مقصد کسانوں کو سستی کھاد فراہم کرنا تھا تاہم کمپنیوں نے کھاد سستی کرنے کے بجائے مہنگی فروخت کی اور 46 فیصد تک منافع کماتی رہیں۔
کمپنیاں کسانوں کو سبسڈی سے محروم کرکے ہوشربا منافع کماتی رہیں جس پر کھاد کارخانوں کے مالکان سے پرائس فکسنگ پر وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔
غیرقانونی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے یوریا کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر چکا اور جرم ثابت ہونے پر کم از کم ساڑھے 7 کروڑ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔
جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد سالانہ ٹرن اوور کا 10 فیصد ہے، مسابقتی کمیشن کا ٹریبونل کیس کی سماعت کے بعد آرڈر جاری کرے گا۔ حکام کے مطابق 2013میں بھی اینگرو سمیت کھاد کمپنیوں کو 8 ارب جرمانہ ہوچکا ہے۔
کھاد کمپنیوں کو سالانہ 152 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔
(بشکریہ:ایکسپریس نیوز)
منگل, ستمبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات

