اسلام آباد: ملک میں کھاد بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ناجائز منافع خوری کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومتی سبسڈی کا مقصد کسانوں کو سستی کھاد فراہم کرنا تھا تاہم کمپنیوں نے کھاد سستی کرنے کے بجائے مہنگی فروخت کی اور 46 فیصد تک منافع کماتی رہیں۔
کمپنیاں کسانوں کو سبسڈی سے محروم کرکے ہوشربا منافع کماتی رہیں جس پر کھاد کارخانوں کے مالکان سے پرائس فکسنگ پر وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔
غیرقانونی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے یوریا کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر چکا اور جرم ثابت ہونے پر کم از کم ساڑھے 7 کروڑ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔
جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد سالانہ ٹرن اوور کا 10 فیصد ہے، مسابقتی کمیشن کا ٹریبونل کیس کی سماعت کے بعد آرڈر جاری کرے گا۔ حکام کے مطابق 2013میں بھی اینگرو سمیت کھاد کمپنیوں کو 8 ارب جرمانہ ہوچکا ہے۔
کھاد کمپنیوں کو سالانہ 152 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔
(بشکریہ:ایکسپریس نیوز)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

