اسلام آباد:حکومت نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی توسیع کا اعلان کردیا تاکہ ابتدائی ڈیڈ لائن تک ٹیکس گوشوارے جمع کرنے سے قاصر رہ جانے والے ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نئی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر مقرر کی گئی ہے، اس کا مقصد ان افراد کو سہولت دینا ہے جو 30 ستمبر کے مقررہ وقت کے اندر اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے سے قاصر رہے۔
یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے اور کسی بھی ممکنہ جرمانے یا قانونی نتائج سے بچنے کے لیے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔
ان لینڈ ریونیو سروس (آئی آر ایس) نے مالی سال 24-2023کے لیے رات گئے ایک سرکلر نمبر 04 جاری کرکے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا اعلان کیا۔
ادارے نے وضاحت کی کہ صنعت اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواست پر ٹیکس دہندگان کی مدد کے لیے ڈیڈ لائن کو آگے بڑھایا گیا ہے۔
دریں اثنا ایف بی آر نے 30 ستمبر تک ٹیکس سال 2023 کے لیے تنخواہ دار، غیر تنخواہ دار افراد اور کمپنیوں کی ایسوسی ایشن سے 0.8 فیصد زیادہ انکم ٹیکس گوشوارے وصول کرلیے۔
ایف بی آر کو 30 ستمبر تک 18 لاکھ 90 ہزار ٹیکس ریٹرن جمع کروائے گئے جبکہ گزشتہ برس اسی مدت میں 18 لاکھ 75 ہزار ٹیکس گوشوارے جمع کروائے گئے تھے۔
گزشتہ برس مجموعی طور پر 48 لاکھ گوشوارے جمع کروائے گئے تھے جبکہ رواں برس ایف بی آر تاحال 29 لاکھ 10 ہزار گوشواروں سے پیچھے ہے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
پیر, ستمبر 14, 2026
تازہ خبریں:
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف
- ایران، امریکہ جنگ کےشعلے : چین چَین کی بنسری کیوں بجا رہا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (1)
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم

