یہ سوال بھی مسلسل حیرت کا سبب ہے کہ نظام کی تباہی کی ’خبر‘ دینے والا وزیر داخلہ خود کیسے اپنے عہدے پر موجود ہے۔ اگر نظام تباہ ہوچکا ہے تو اس تباہی میں کسی ملک میں امن و امان اور قانون کی بالادستی کے ذمہ دار شخص کو سب سے پہلے مورد الزام ٹھہرانا چاہئے۔ لیکن اسے تو معتمد اور پیامبر کا مقام عطا کرکے عزت واحترام سے سرفراز کیا جارہا ہے۔
Browsing: نئے صوبے
ہ ماڈل کامیاب ہوتا ہے تو باقی پورے ملک کیلئے مثال بنے گا ۔ کم آبادی اور مضبوط انتظامیہ اور وہ بھی عین حکومتی ناک کے نیچے، اسلام آباد کی خود مختار حکومت کوٹھیک سے چلانا سب سے آسان ہو گا۔
چوہدری رحمت علی جنوبی ایشیا میں دس نئی مسلم ریاستوں کی کامن ویلتھ قائم کرکے اکھنڈ بھارت اور رام راج کے منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ انکی سوچ کو آج کچھ لوگ غیر حقیقت پسندانہ ضرور کہیں گے لیکن وہ دراصل اکھنڈ بھارت کے منصوبے کیخلاف مزاحمت کر رہے تھے جسکا نقشہ آج بھارتی پارلیمنٹ میں آویزاں ہے۔
’’صوبوں کی حدود‘‘ طے کرنے کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے لئے وہاں کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے اور اس کا حصول ناممکن نظر آرہا ہے۔ محض ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے عوم سے بذریعہ ریفرنڈم حاصل کردہ ’’ہاں‘‘ اس تناظر میں کام نہیں آئے گی۔
والد مرحوم یہ کہاوت اکثر سناتے تھے کہ کوئی یہ کہے کہ تمہارے کان کتا لے گیا ہے تو کتے کے پیچھے دوڑنے سے پہلے کان…
سب جانتے ہیں کہ نئے صوبوں کی بحث کس نے شروع کرائی ہے لیکن رانا ثناء اللّٰہ نے اس بحث کو غیر سنجیدہ قرار دے کر…
