Browsing: نئے صوبے

یہ سوال بھی مسلسل حیرت کا سبب ہے کہ نظام کی تباہی کی ’خبر‘ دینے والا وزیر داخلہ خود کیسے اپنے عہدے پر موجود ہے۔ اگر نظام تباہ ہوچکا ہے تو اس تباہی میں کسی ملک میں امن و امان اور قانون کی بالادستی کے ذمہ دار شخص کو سب سے پہلے مورد الزام ٹھہرانا چاہئے۔ لیکن اسے تو معتمد اور پیامبر کا مقام عطا کرکے عزت واحترام سے سرفراز کیا جارہا ہے۔

چوہدری رحمت علی جنوبی ایشیا میں دس نئی مسلم ریاستوں کی کامن ویلتھ قائم کرکے اکھنڈ بھارت اور رام راج کے منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ انکی سوچ کو آج کچھ لوگ غیر حقیقت پسندانہ ضرور کہیں گے لیکن وہ دراصل اکھنڈ بھارت کے منصوبے کیخلاف مزاحمت کر رہے تھے جسکا نقشہ آج بھارتی پارلیمنٹ میں آویزاں ہے۔

’’صوبوں کی حدود‘‘ طے کرنے کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے لئے وہاں کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے اور اس کا حصول ناممکن نظر آرہا ہے۔ محض ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے عوم سے بذریعہ ریفرنڈم حاصل کردہ ’’ہاں‘‘ اس تناظر میں کام نہیں آئے گی۔