Browsing: آزاد کشمیر ہنگامے

رانا ثنا اللہ نے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پراپیگنڈا کا حال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے میرپور میں ایک واقعہ ہوا، جس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ لیکن ایک ویڈیو بنائی گئی کہ تقریباً 25 لاشیں خون میں لت پت وہاں پر موجود ہیں اور بتایا گیا کہ دیکھیں یہ قتلِ عام ہو گیا ہے اور بعد میں وہ ساری لاشیں لوگوں کو چلتی پھرتی نظر آئیں۔‘

فروری 2024ء کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھانا شروع ہوگئی ہے۔ اس برس ہوئے انتخاب پر سوالات اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی بھول گئی کہ مذکورہ انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بدولت ہی وہ آصف علی زرداری صاحب کو دوبارہ صدر مملکت بنواکر تاریخ بنانے کے قابل ہوئی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے گورنر بھی اس کے حصہ میں آئے اور سابق وزیر عظم یوسف رضا گیلانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔

احتجاج کے لیے لوگوں کا گھروں سے نکلنا بے چینی، محرومی اور غم و غصہ کا اظہار ضرور ہے۔ کسی حکومت کو اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسرا یہ کہ حکومت عوام کی کثیر تعداد کو طویل عرصہ تک بے یار مددگار کسی علاقے میں محصور رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اختلاف اتفاق سے قطع نظر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں مناسب دیکھ بھال، خوراک اور سہولتوں تک رسائی دی جائے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ایک درجن سے زیادہ کارکن زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز راولا کوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں

یہ اشارے بھی موجود ہیں کہ بعض سیاسی عناصر ایکشن کمیٹی کو اپنے گروہی سیاسی مفادات کے لیے آلہ کار بنائے ہوئے ہیں۔
آزاد کشمیر حکومت کو کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ایکشن کمیٹی کے لیڈروں کو رہا کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور ایکشن کمیٹی بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں یہ تسلیم کرلے کہ آئیندہ منتخب اسمبلی اس سوال پر حتمی آئینی فیصلہ کرے گی۔ اس وقت تک احتجاج ملتوی کرکے آزاد کشمیر کی سیاست کو کسی بڑے بحران سے بچایا جائے۔