ملتان میں تعزیے کے جلوسوں کی روایت صدیوں پرانی ہے، دس محرم کے روز 30 سے زائد تعزیہ جلوس برآمد کئے جاتے ہیں، انہی میں استاد اور شاگرد کے تعزیہ کے جلوس بھی شامل ہیں۔ملتان کے قدیمی استاد اور شاگرد کے تعزیے عالمی شہرت رکھتے ہیں، استاد کا تعزیہ جو حضرت امام حسین کے روضے کی شبیہ ہے 1835ء میں استاد پیر بخش نے ساگوان کی لکڑی سے تیار کیا تھا جو 8مربع فٹ چوڑا اور 25فٹ اونچا ہے، اس تعزیے کو 80سے زائد افراد اٹھاتے ہیں۔استاد کے تعزیے کے بننے کے کچھ سالوں بعد علی احمد چنیوٹی نے شاگرد کا تعزیہ بنایا جو 150 من وزنی ہے۔یہ دونوں تعزیے 4 محرم کی شام اپنے آستانوں سے نکال کر جوڑے جاتے، ان کی تزئین و آرائش کی جاتی ہے اور 9محرم کی صبح یہ تعزیے زیارت کے لیے رکھ دیئے جاتے ہیں۔دس محرم کے روز استاد اور شاگرد کے تعزیے النگ پاک گیٹ سے نکالے جاتے ہیں جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے بی بی پاک دامن قبرستان پہنچ کر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔
( بشکریہ : جنگ ویب سائٹ )
اتوار, ستمبر 13, 2026
تازہ خبریں:
- اِس شہر کے کتنے روپ ہیں؟ ۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- دنیا میں امریکہ کا متبادل موجود نہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نائن الیون کی 25 ویں برسی : امریکہ کٹہرے میں کھڑا ہے ۔۔ سید مجاہد علی کا کالم
- رضا اللہ کی مزاحمت کے باوجود ایجبسٹن ٹیسٹ میں شکست: انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف کلین سویپ
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم

