عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت دی ہے اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر آئندہ ہفتے سے پہلے کوئی مسئلہ ہو تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’سپریم کورٹ میں عمران خان کے لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی۔ اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی، یقین دہانی کے باوجود عمران خان نے کارکنان کو ڈی چوک کی کال دی۔ عدالت کے حکم پر سری نگر ہائی وے گراؤنڈ کے راستے کھول دیے گئے تھے۔
’سری نگر ہائی وے کا گراؤنڈ انھوں نے خود مانگا تھا۔ کارکنان کال پر ڈی چوک کی طرف آ گئے۔ کارکنان ریڈ زون کی طرف آئے۔ لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ مظاہرین کے ریڈزون کی طرف آنے پر 25 مئی کی رات متفرق درخواست دائر کی۔ متفرق درخواست میں ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی استدعا کی۔ اٹارنی جنرل نے 25 مئی کا عدالتی حکمنامہ پڑھ کر سنایا عدالتی کارروائی کے دوران وکلا تحریک انصاف لیڈر شپ کے ساتھ رابطے میں تھے۔‘
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ’عبوری آرڈرز کس لیے دیں؟‘ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا ’عمران خان تعلیمی اداروں میں طلبا اور عوام کو اکسا رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’آپ کے مطابق عدالتی احکامات کی پہلے ہی خلاف ورزی کی جاچکی ہے۔ آپ ایگزیکٹو اتھارٹی ہیں، اس وقت عدالتی احکامات پر انحصار کر رہے تھے۔ موجودہ صورتحال میں آپ کو لبرٹی ہے کہ آپ روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ 25 مئی واقعے میں 13 افراد زخمی ہوئے، پبلک پراپرٹی کو نقصان ہوا، کیس داخل نہ ہوا۔ دوسرے دن عمران خان صبح سویرے واپس چلے گئے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ہم اس معاملے میں رپور ٹس کا جائزہ لیں گے۔ آپ اپنے آپ کو قانون کے مطابق تیار کریں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا ’اسلام آباد میں آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کی پولیس بھی داخل ہوئی تھی۔‘ عدالت نے اٹارنی جنرل کو پولیس اور انتظامیہ کی جمع کردہ رپورٹس فراہم کی ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ ’خفیہ رپورٹس ہیں، ان کا جائزہ لیں۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’عدالتی حکمنامے میں کارکنان کی پکڑ دھکڑ سے روک دیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی لیڈر شپ کو اپنے کارکنان کو پُرسکون رہنے کی بھی ہدایت کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ فی الحال تحمل میں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں آئی ایس آئی، آئی بی، آئی جی اسلام آباد، وزارت داخلہ اور چیف کمشنر سے رپورٹ طلب کی۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’رپورٹس طلب کیں تو آیا کہ پی ٹی آئی لیڈر شپ نے یقین دہانی کی خلاف ورزی کی۔ متعلقہ اداروں نے رپورٹس سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔ مجھے ان رپورٹس کی کاپی نہیں مل سکی۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’رپورٹس کی کاپی آپ کو فراہم کی جائے گی۔ آپ کو کاپی ملنے کے بعد دوبارہ سماعت کریں گے۔‘
اٹارنی جنرل کی استدعا پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ’کیا عبوری حکم جاری کریں؟‘ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا ’عمران خان اسلام آباد پر چڑھائی کو جہاد قرار دے رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’رپورٹس کے مطابق 300 کے قریب افراد ریڈ زون کی طرف داخل ہوئے تھے۔ بظاہر لگتا ہے کہ وہ مقامی لوگ تھے، اگر احتجاج کرنے والے ہوتے تو زیادہ ہوتے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جب صورتحال سامنے آئی تو ہم نے چھٹی والے دن عدالت لگائی۔ آپ کو اس صورتحال میں مضبوط دلائل دینے ہوں گے۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس میں سب کو سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
’جمہوریت لیڈر شپ کوالٹی پیدا کرتی ہے۔ ہم نے ہمیشہ قانون کی بات کی ہے۔ ہم پولیٹکل ایکٹرز نہیں اور نہ ہی سیاسی اقدامات لے سکتے ہیں۔‘
عدالت نے سماعت 26 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
جمعہ, اکتوبر 30, 2026
تازہ خبریں:
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ

