کراچی سے تعلق رکھنے والے پنجابی کے معروف شاعر سہیل ساجد اسٹونزآبادی نے کہا ہے کہ ماں بولی کا قرض مجھ پر واجب تھا اور میں نے اپنے شعری مجموعے کے ذریعے یہ قرض ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ماں بولی میں اپناما فی الضمیر بہتر انداز میں بیان کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے میٹرک اسی ملتان سے کیا تھا۔میری پہلی کتاب ”ڈوبتا سورج“ کی رونمائی بھی ملتان میں ہوئی تھی اور اس کتاب کے لیے بھی میں کراچی سے خاص طورپر ملتان آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ گردوپیش پبلی کیشنز کا شکرگزارہوں جس نے میری اس کتاب کی ملتان سے اشاعت ممکن بنائی ۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں اپنے پنجابی شعری مجموعے”اکھرروپئے میرے نال“ کی تقریب رونمائی میں اظہارخیال کے دوران کیا۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر محمد امین نے کی۔ اظہارخیال کرنے والوں میں رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، مستحسن خیال، جاوید یاد، سلیم ناز، امجد رامے، یوسف سلیم قادری، اکبرہاشمی، اظہر سلیم مجوکہ، شفیق اختر حر ،پرویز ڈیوڈ اور سیموئیل کامران شامل تھے۔
ڈاکٹر محمد امین نے کہا کہ بہت سی زبانیں خطرات سے دوچار ہیں۔ہمیں ان کی بقا کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ”اکھر روپئے میرے نال“ دراصل لفظوں کے بے وقعت ہونے کی کہانی ہے۔
رضی الدین رضی اور شاکر حسین شاکر نے کہاکہ غزہ پر ہونےوالے مظالم کے ساتھ ساتھ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم بھی اس کتاب کا موضوع ہیں۔
سہیل ساجد اسٹونز آباد ی نے مظلوموں کے دکھوں کو پنجابی شاعری کاموضوع بنایا۔ادبی بیٹھک میں ”اکھر روپئے میرے نال“ کی تقریب رونمائی
ایڈیٹر26 Views

