تحریک انصاف میں جہاں جنرل نشستوں پر اپنے امیدواروں کے ناموں پر اختلافات ہیں وہیں خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اور لاہور کی طرح ملتان میں بھی خواتین سراپا احتجاج ہیں۔ملتان سے تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر سبین گل، آصفہ سلیم اور اعجاز فاطمہ کا نام شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف لسٹ میں نام نہ آنے پر تحریک انصاف کی دیگر خواتین بھی قیادت سے ناراض ہیں۔ملتان تحریک انصاف وومن ونگ کی سٹی صدر اور ممبر میونسپل کارپوریشن ملتان قربان فاطمہ بھی لسٹ میں نام نہ آنے پر نالاں ہیں۔انکی قیادت میں خواتین نے اتوار کے روز شاہ محمود قریشی کے گھر کے باہر دھرنا دیا، اس موقعے پر شاہ محمود کی حامی اور مخالف خواتین میں ہاتھا پائی بھی ہوئی جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی ایک کارکن نبیلہ بٹ زخمی ہو گئیں۔قربان فاطمہ نے سجاگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی سالوں سے تحریک انصاف کا حصہ ہوں عمران خان کے دھرنوں، احتجاجوں اور جلسوں میں بھر پور شرکت کی، جنرل الیکشن ہو، ضمنی یا بلدیاتی انتخابات عمران خان کے لیے ووٹ مانگے۔ اب جب ہماری محنت کا صلہ دینے کا وقت آیا تو قیادت نے نظر انداز کر دیا۔قربان فاطمہ نے الزام لگایا کہ ان کا نام خواتین کی مخصوص نشست میں تھا شاہ محمود قریشی نے ذاتی عناد پر نکالا کیونکہ ہمارا تعلق جہانگیر ترین گروپ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ کارکنوں کے حق میں جہانگیر ترین بہتر ہیں وہ بات سنتے ہیں اور مسائل حل کرتے ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی کا رویہ کارکنوں سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔ اسی لیے شاہ محمود قریشی کے گھر کے باہر احتجاج بھی کیا اور شاہ محمود قریشی کیخلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔ قربان فاطمہ نے کہا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیں گے۔ تاہم شاہ محمود قریشی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ لسٹ کے حوالے سے عمران خان سے بات کریں گے اور کارکنوں کے تحفظات ان کے سامنے رکھیں گے۔قربان فاطمہ کے علاوہ تحریک انصاف وومن ونگ کی ضلعی صدر اور ممبر ضلع کونسل ذہین کنول بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست پر نام نہ آنے پر قیادت سے نالاں ہیں۔ذہین کنول نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی مخصوص نشستوں میں جنوبی پنجاب کی خواتین کارکنوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے جس سے پرانے کارکنوں میں مایوسی دوڑ گئی ہے۔عمران خان کی تحریک میں بھرپور ساتھ دیا ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑی رہیں ضلع بھر میں تحریک انصاف کو متحرک کرنے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن آج قیادت نے آنکھیں پھیر لی ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔ اگر قیادت نے لسٹوں پر نظر ثانی نہ کی تو بنی گالہ کے باہر دھرنا دوں گی۔لسٹ میں شامل آصفہ سلیم نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی لسٹ میں نام آنے کی خوشی ہے۔ جو خواتین احتجاج کر رہی ہیں ان کے پاس پارٹی عہدے بھی ہیں اور انہیں میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل میں مخصوصی نشست دی گئی ہے اب وہ صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر بھی اپنا حق سمجھتی ہیں جو کہ غلط ہے۔آصفہ سلیم کا مزید کہنا ہے کہ لسٹ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کم ہے جس پر مجھے بھی تحفظات ہیں کیونکہ اس بار تحریک انصاف جنوبی پنجاب سے کلین سویپ کرے گی اور تناسب کے حساب سے کم نام شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کیمطابق خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی جہانگیر ترین گروپ اور شاہ محمود قریشی گروپ آمنے سامنے ہے۔ یہاں بھی شاہ محمود گروپ کو نوازا گیا ہے جس پر جہانگیر ترین گروپ پریشان ہے۔اسی لیے ذہین کنول، قربان فاطمہ اور ڈاکٹر روبینہ ترین لسٹ میں نام نہ آنے کا ذمہ دار شاہ محمود قریشی کو قرار دے رہی ہیں۔
( بشکریہ : لوک سجاگ )
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی

